Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 383

By Maulana Wahiduddin Khan

جب تک صبر نہ کیا جائے حقیقی کلمۂ حمد آدمی کی زبان سے نہیں نکل سکتا۔ قُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا (20:44)۔ یعنی، پس اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔ صبر کی آیت ہے۔ کیونکہ سرکش مخاطب کی دل آزار باتوں کو جب تک برداشت نہ کیا جائے اس سے نرم انداز میں گفتگو نہیں کی جاسکتی، وغیرہ وغیرہ۔ اس دنیا میں کامیابی کا واحد راز یہ ہے کہ ممکن سے اپنے عمل کا آغاز کیا جائے، اور ناکامی کا واحد سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ اپنی قوت اور طاقت کو ناممکن کے حصول میں لگا دیا جائے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ متشددانہ طریقہ کار آدمی کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے اور پر امن طریقہ کار کامیابی کی طرف۔ متشددانہ طریقہ کار ہمیشہ بے صبری کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں پر امن طریقہ کار وہ لوگ اختیار کرتے ہیں جو نزاعی معاملات میں صبر و تحمل کا ثبوت نہ دے سکیں۔ امن کی طاقت اس دنیا میں سب سے بڑی طاقت ہے، اور صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ امن کی طاقت کو کامیاب طور پر استعمال کر سکے۔ تکمیل دین ختم نبوت اور تکمیل دین دونوں ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی تخلیقی اسکیم کے مطابق یہ لازمی طور پر ضروری ہے کہ اہل عالم کے سامنے ہر زمانہ میں خدا کی رہنمائی موجود رہے۔ پچھلے زمانوں میں یہ رہنمائی پیغمبروں کے ذریعہ فراہم کی جاتی تھی۔ انسان اول آدم علیہ السلام ہی کے وقت سے رہنمائی کا یہ سلسلہ شروع ہوا اور اس کے بعد ہر دور میں وہ مسلسل جاری رہا۔ یہی بات قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے _ ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْر (23:44)۔ یعنی، پھر ہم نے لگا تار اپنے رسول بھیجے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page