Urdu book · دینِ انسانیت

تکمیل دین

Urdu book, p. 384

By Maulana Wahiduddin Khan

محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں قرآن (23:40) میں اعلان کیا گیا کہ وہ آخری رسول ہیں۔ اب ان کے بعد کوئی اور رسول آنے والا نہیں ہے۔ یہ اعلان سادہ طور پر صرف فہرست انبیاء کے پورا ہو جانے کا اعلان نہ تھا۔ اس کا لازمی مطلب یہ بھی تھا کہ ذات نبوت اگر چہ اب دنیا میں موجود نہیں رہے گی مگر بدل نبوت ہمیشہ دنیا میں بدستور باقی رہے گا۔ تکمیل دین (بمعنی استحکام دین) دراصل اسی فیصلہ خداوندی کا ظہور ہے۔ ختم نبوت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو نبوت کا بدل یا اس کا قائم مقام بنا دیا۔ قدیم زمانہ میں دین عدم استحکام کا شکار ہوتا رہتا تھا۔ اس لیے نبی کے بعد وہ نبوت کا بدل نہیں بن سکتا تھا۔ پیغمبر آخر الزمان کے بعد، اللہ کی خصوصی نصرت کے ذریعہ دین کو پوری طرح مستحکم کر دیا گیا۔ اس طرح ختم نبوت کے بعد خود دین نبوت کا بدل بن گیا۔ قیامت تک یہ حالت باقی رہے گی، اس لیے اب قیامت تک محمد عربی کی نبوت بھی جاری رہے گی۔ اب کسی نئے نبی کے آنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اسی معاملہ کو قرآن میں اکمال دین (یا تکمیل دین) کہا گیا ہے۔ یعنی دین کو اس طرح مستحکم کر دینا کہ قیامت تک اس کے لیے کسی قسم کا کوئی خطرہ باقی نہ رہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 5 میں ارشاد ہوا ہے: الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دينا (5:3) - آج منکر لوگ تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہو گئے۔ پس تم ان سے نہ ڈرو، تم صرف مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور تمہارے اوپر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page