Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

علم اتنا زیادہ وسیع خزانہ ہے کہ وہ کسی ایک دماغ میں سما نہیں سکتا۔ اس لیے ہر سچا عالم حرص کی حد تک اس کا طالب رہتا ہے کہ کوئی ملے جو اس کی رائے سے اختلاف کرے۔ تا کہ علم کے نئے گوشے کھلیں، تا کہ دوسروں کے علم سے وہ اپنے علم میں اضافہ کرے۔ تاہم اختلاف اور مذاکرہ کا یہی فائدہ نہیں ہے کہ اس کے ذریعہ سے وہ مزید معلومات سامنے آتی ہیں جو دوسروں کے پاس ہیں۔ بلکہ یہ بھی ہوتا ہے کہ خود عالم کا اپنا ذہن زیادہ منقح ہوتا ہے۔ اختلاف و مذاکرہ کے دوران وہ خود اپنے خیالات کو زیادہ واضح اور جامع صورت میں مرتب کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک سچی علمی گفتگو، خواہ وہ کتنا ہی زیادہ اختلافی ہو، ایک صاحبِ علم اور حقیقت پسند شخص کے لیے لذتِ ترین تجربہ ہے۔ ایسا لمحہ گویا علم کے سمندر میں مشتر کہ غوطہ زنی کے ہم معنی ہے۔ جو بے حد پر کیف بھی ہے اور بے حد مفید بھی۔ موجودہ زمانہ میں چونکہ جھوٹے ناقدین بہت بڑھ گئے ہیں اس لیے بہت سے لوگ سچی تنقید کو بھی برا سمجھنے لگے ہیں۔ حالاں کہ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ جھوٹی تنقید اگر بدبو ہے تو سچی تنقید خوشبو، جھوٹی تنقید اگر کانٹا ہے تو سچی تنقید ایک حسین پھول۔ جھوٹی تنقید ایک قسم کی تخریب کاری ہے۔ اس کے مقابلہ میں سچی تنقید ایک تعمیری عمل ہے۔ وہ اس قابل ہے کہ اس کو ہر حال میں جاری رکھا جائے۔ حریتِ فکر مدینہ میں غلام طبقہ سے تعلق رکھنے والے ایک مرد اور ایک عورت رہتے تھے۔ مرد کا نام مغیث اور عورت کا نام بریرہ تھا، انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ایک عرصہ کے بعد خاتون

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page