تکمیل دین
Urdu book, p. 390
By Maulana Wahiduddin Khan
radiation) ہے جو 186000 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کر رہی ہے۔ اس کی نامعلوم نوعیت (unknown nature) کی بنا پر رانٹجن نے اس کا نام اکسرے (X-rays) رکھ دیا (Encyclopedia Britannica, Vol. 19 p. 1058)۔ بیسویں صدی میں اس طرح کے کثیر حقائق سامنے آئے جن کا براہ راست مشاہدہ ممکن نہ تھا، مگر ان کے بالواسطہ اثرات کی بنا پر ان کے وجود سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس لیے جدید علما مجبور ہوئے کہ براہ راست استدلال کے ساتھ استنباطی استدلال کو بھی ایک معقول استدلالی معیار کے طور پر تسلیم کریں۔ کیونکہ اس کے بغیر اکسریز کی تشریح نہیں کی جا سکتی تھی۔ اس کے بغیر ایٹم کے سائنسی ڈھانچہ کو ماننا ممکن نہ تھا۔ اس کے بغیر بلیک ہول یا ڈارک میٹر کے وجود کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا تھا، وغیرہ۔ معیار استدلال میں اس توسیع کے بعد دینی معتقدات پر استدلال اتنا ہی معقول (valid) بن گیا جتنا کہ سائنسی نظریات پر استدلال۔ جس استنباطی منطق سے سائنس کے جدید نظریات ثابت کیے جا رہے تھے، عین اسی استنباطی منطق سے دینی عقیدہ بھی ثابت ہو رہا تھا۔ اس طرح چودہ سو سال پہلے قرآن کا یہ اعلان دوبارہ تاریخ میں قائم ہو گیا کہ انسانی افکار میں کوئی بھی تبدیلی اسلام کی حقانیت کو رد نہ کر سکے گی۔ آیندہ آنے والا کوئی بھی انقلاب صرف دین خداوندی کی تصدیق کرے گا۔ وہ کسی بھی حال میں اس کی تردید کرنے پر قادر نہ ہوگا۔ 3۔ تیسرا فکری انقلاب جس سے بعد کی تاریخ میں اسلام کا سابقہ پیش آیا وہ سیکولرزم ہے۔ یہ فکر یورپ کی نشاۃ ثانیہ کے ساتھ شروع ہوا۔ یہ سیکولرزم ایک ایسی تحریک تھی جو بعد کو آنے والی دنیا کے بجائے موجودہ مادی دنیا کو ساری اہمیت دیتی تھی: ....a movement in society directed away from other

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader