Urdu book · دینِ انسانیت

اسوہ حسنہ

Urdu book, p. 399

By Maulana Wahiduddin Khan

کریں گے اور اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ کو ختم کر دیں گے۔ چنانچہ ہجرت مدینہ کے ابتدائی دور میں آپ مہاجرین کے چھوٹے چھوٹے دستے مکہ کے راستوں پر بھیجتے تھے، تا کہ مکہ والوں کی سرگرمیوں سے واقفیت حاصل کریں، اور ان کے جارحانہ اقدام سے پیشگی طور پر باخبر ہو جائیں۔ رمضان 2ھ میں ابوسفیان کے تجارتی قافلہ کا واقعہ پیش آیا۔ اس کی حفاظت کے نام پر قریش کے تقریباً تمام سردار ایک طاقت ور فوج لے کر نکلے۔ ان کا ارادہ تھا کہ وہ تجارتی قافلہ کو بچانے کے بعد مدینہ پر حملہ کریں۔ اس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے براہ راست حکم کے تحت مدینہ سے نکلے۔ اللہ نے خصوصی طور پر فرشتوں کے ذریعہ اہل اسلام کی مدد کی۔ دونوں کے مقابلہ میں اہل مکہ کو زبردست شکست ہوئی۔ اس کے بعد بھی اہل مکہ خاموش نہیں رہے۔ انہوں نے بار بار جارحیت کرنا چاہا۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ٹکراؤ سے بچتے رہے۔ تاہم احد اور حنین کے موقع پر وہ یک طرفہ طور پر اہل اسلام پر ٹوٹ پڑے ۔ اس کے نتیجہ میں جنگ واقع ہوئی۔ پیغمبر اسلام کا مقصد مخالفین کو قتل کرنا نہیں تھا بلکہ ان کو اسلام کے دائرہ میں داخل کر کے انہیں اسلام کی طاقت بنانا تھا۔ چنانچہ آپ نے حدیبیہ کے موقع پر یک طرفہ شرائط پر اہل مکہ سے دس سال کا نا جنگ معاہدہ کر لیا تا کہ دونوں فریقوں کے درمیان معتدل فضا قائم ہو اور دعوت کا عمل مؤثر انداز میں جاری ہو سکے۔ صلح حدیبیہ نے اہل اسلام کے لیے دعوت کے مواقع کھول دیے ۔ چنانچہ تاریخ نے دیکھا کہ صرف دو سال کے اندر لوگ اتنی بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہوئے کہ کسی جنگ کے بغیر صرف عددی طاقت کے ذریعہ اسلام پورے عرب پر غالب آ گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page