Urdu book · دینِ انسانیت

حریت فکر

Urdu book, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

آزاد ہو گئیں ۔ آزادی کے بعد از روئے قاعدہ انھیں اختیار مل گیا کہ خواہ وہ سابق شوہر کے ساتھ رہیں یا اس سے علیحدگی اختیار کر لیں ۔ بریرہ نے علیحدگی کا فیصلہ کیا۔ مگر مغیث کو اس خاتون سے بہت زیادہ لگاؤ تھا۔ اس لیے وہ چاہتے تھے کہ بریرہ اپنے فیصلے کو بدل دیں اور ان کے ساتھ رہنے پر راضی ہو جائیں۔ یہ ایک لمبا قصہ ہے۔ حدیث کی کتابوں میں اس کی کافی تفصیلات آئی ہیں۔ حتی کہ بریرہ اور مغیث پر مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں۔ خلاصہ یہ کہ آخر کار ان کا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا۔ اس وقت حالت یہ تھی کہ بریرہ آگے آگے تھیں اور مغیث، جو سیاہ فام تھے، ان کے پیچھے اس طرح چل رہے تھے کہ آنسوؤں سے ان کی داڑھی کے بال تر ہو گئے تھے۔ اس کے بعد ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم: لَوْ رَاجَعْتِهِ. قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: إِنَّمَا أَنَا أَشْفَعُ، قَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 5283)۔ یعنی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اچھا ہے کہ تم اس کی طرف رجوع کر لو۔ بریرہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، کیا آپ مجھے اس کا حکم دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میں صرف سفارش کر رہا ہوں۔ بریرہ نے جواب دیا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ یہ اس بات کی ایک انتہائی اعلیٰ اور آخری مثال ہے کہ اسلام میں عورت اور مرد کو کتنی زیادہ آزادی حاصل ہے۔ یہ آزادی کوئی سرکشی نہیں ہے۔ یہ انسانی فطرت کی رعایت ہے۔ انسان کی شخصیت کا ارتقا صرف آزادی کے ماحول میں ہو سکتا ہے۔ جس طرح ایک درخت کھلی فضا ہی میں پروان چڑھتا ہے، ٹھیک اسی طرح ایک انسان کا ذہنی اور روحانی وجود صرف اسی وقت بھر پور طور پر نشوونما پاتا ہے جب کہ اس کو کامل فکری آزادی ملی ہوئی ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page