Urdu book · دینِ انسانیت

ہجرت رسول

Urdu book, p. 400

By Maulana Wahiduddin Khan

ہجرت رسول پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نبوت کے تیرہویں سال مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔ کچھ غیر مسلم مورخین اس کو فرار (flight) کہتے ہیں۔ مگر اسلامی تاریخ میں اس کو ہجرت کہا جاتا ہے۔ یہ محض خوش عقیدگی کی بات نہیں بلکہ ایک واقعہ کا اظہار ہے۔ اس قسم کا واقعہ عام طور پر فرار ہی ہوتا ہے۔ مگر یہ پیغمبر اسلام کا خصوصی کارنامہ ہے کہ آپ نے فرار کے معاملہ کو ہجرت کے معاملہ میں تبدیل کر دیا۔ عام لوگ جن کو اپنے ملک میں سخت حالات پیش آئے اور آخر کار ان کو وہاں سے "فرار" اختیار کرنا پڑا، وہ کون لوگ تھے ۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے حکومت وقت کے خلاف سیاسی تحریک چلائی۔ انہوں نے موجودہ حکمران کو بے دخل کرکے حکومت پر قبضہ کرنا چاہا۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ سراسر اس کے برعکس تھا۔ آپ نے کسی کا اقتدار چھینے کا منصوبہ نہیں بنایا۔ حتیٰ کہ مکہ والوں نے خود سے حکومت کی پیش کش کی تو اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ لوگوں کو دینے کے لیے اٹھے تھے، نہ کہ لوگوں سے چھینے کے لیے۔ پھر جب مکہ والوں نے آپ کو مکہ سے نکلنے پر مجبور کر دیا تو باہر جا کر آپ نے وہ نہیں کیا جو عام لوگ کرتے ہیں۔ آپ نے مدینہ میں بیٹھ کر مکہ والوں کے خلاف پروپیگنڈے کی مہم نہیں چلائی۔ اور نہ مکہ والوں کے خلاف کوئی سیاسی سازش کی۔ آپ مدینہ پہنچ کر بھی مکہ والوں کے خیر خواہ بنے رہے۔ آپ ان کے لیے دعائیں کرتے۔ آپ اس کے لیے تڑپتے کہ کاش یہ لوگ جہنم کے راستہ کو چھوڑ دیں اور جنت کے راستہ پر چلنے لگیں۔ آپ کی نظر اب بھی مکہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page