Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 401

By Maulana Wahiduddin Khan

والوں کے ملک و مال پر نہیں تھی بلکہ ان کی ہدایت اور نجات پر تھی۔ حتیٰ کہ مکہ والوں نے آپ کے خلاف جنگ چھیڑی تو آپ نے یک طرفہ شرائط پر ان سے صلح کرلی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ چھوڑ کر مدینہ جانا خود اہل مکہ کے حق میں آپ کی ایک قربانی تھی۔ مدینہ میں قیام کے زمانہ میں بھی آپ اہل مکہ کے حق میں قربانیاں دیتے رہے۔ آپ نے نفرت کے واقعہ کو محبت میں تبدیل کیا۔ آپ نے بدخواہی کے معاملہ کو خیر خواہی کا رخ دے دیا۔ جو سلوک تخریبی رد عمل پیدا کرنے والا تھا، اس کو آپ نے تعمیری فضا پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا۔ آپ کا یہی کارنامہ ہے جس کی بنا پر آپ کے ترک وطن کو فرار کے بجائے ہجرت کا نام دیا گیا ہے۔ قائد اتحاد نبوت سے پہلے جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ابھی 35 سال تھی، مکہ میں ایک واقعہ پیش آیا۔ یہ کعبہ کی تعمیرِ نو کا مسئلہ تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کعبہ کی جو تعمیر کی تھی، وہ زمانہ گزرنے کی وجہ سے بوسیدہ ہوگئی تھی۔ چنانچہ قریش کو خیال ہوا کہ اس کو از سر نو تعمیر کیا جائے۔ پہلا مسئلہ قدیم دیوار کو توڑنے کا تھا۔ اب تمام لوگ ڈر گئے۔ ہر ایک اس اندیشہ میں تھا کہ اگر اس نے اس مقدس عمارت پر پھاوڑا چلایا تو کہیں اس کے اوپر کوئی آفت نازل نہ ہو جائے۔ آخر کار ولید بن مغیرہ نے ہمت کی۔ وہ کعبہ کے سامنے پھاوڑا لے کر کھڑا ہوا اور کہا: اللَّهُمَّ لَمْ نَزِغْ ، اللَّهُمَّ إِنَّا لَا نُرِيدُ إِلَّا الْخَيْرَ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 180)۔ یعنی، اے اللہ، ہم نے ٹیڑھی راہ اختیار نہیں کی۔ اے اللہ، ہم بھلائی کے سوا کچھ نہیں چاہتے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page