قائد اتحاد
Urdu book, p. 402
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے بعد سب نے مل کر دیوار توڑی۔ مگر قدیم بنیاد کو باقی رکھا۔ ابنِ اسحاق کی روایت ہے کہ اس کھدائی میں ان کو ایک پتھر ملا۔ اس پر یہ کلمات لکھے ہوئے تھے: مَنْ يَزْرَعْ خَيْراً، يَحْصُدْ غِبْطَةً، وَمَنْ يَزْرَعْ شَرّاً، يَحْصُدْ نَدَامَةً، تَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ، وَتُجْزَوْنَ الْحَسَنَاتِ؟! أَجَلْ، كَمَا لَا يُجْتَنَى مِنَ الشَّوْكِ العنب (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 182)۔ یعنی، جو آدمی نیکی بوئے گا وہ قابلِ رشک فصل کاٹے گا۔ اور جو آدمی برائی بوئے گا وہ ندامت کی فصل کاٹے گا۔ کیا تم لوگ برائی کرو گے اور اچھا بدلہ پاؤ گے، ایسا نہیں ہو سکتا، جس طرح کانٹے کے پیڑ سے انگور نہیں توڑے جاسکتے۔ قریش کے ہر قبیلہ نے کعبہ کی تعمیرِ نو کے لیے پتھر جمع کیے۔ پھر اس کی تعمیر شروع کی۔ جب تعمیر اس مقام پر پہنچی جہاں حجر اسود کو دوبارہ لا کر نصب کرنا تھا تو قبائل کے درمیان جھگڑا ہو گیا۔ یہ ایک شرف کی بات تھی، چنانچہ ہر قبیلہ یہ چاہنے لگا کہ وہی حجر اسود کو اٹھائے اور وہی اس کو اس کے سابقہ مقام پر لا کر رکھے۔ اختلاف بڑھا۔ لوگ لڑنے پر تیار ہو گئے۔ یہاں تک کہ بنو عبدالدار خون سے بھرا ہوا ایک کٹورا لائے اور اس میں اپنی انگلیاں ڈال کر آخر وقت تک لڑائی کرنے کا عہد کیا۔ اسی تکرار میں چار یا پانچ دن گزر گئے۔ آخر ان کو ہوش آیا۔ سب کے سب مسجد کے اندر اکٹھے ہوئے۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور انصاف پر راضی ہو گئے ـــ ثُمَّ إِنَّهُمْ اِجْتَمَعُوا فِي الْمَسْجِدِ، وَتَشَاوَرُوا وَتَنَاصَفُوا (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 182)۔ ابو امیہ بن المغیرہ اس وقت قریش میں سب سے زیادہ سن رسیدہ تھا۔ اس نے کہا کہ اے قریش

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader