قائد اتحاد
Urdu book, p. 403
By Maulana Wahiduddin Khan
کے لوگو، تم لوگ اپنے اختلاف کا فیصلہ اس طرح کرو کہ کل صبح کو جو پہلا آدمی مسجد کے دروازہ سے داخل ہو اس سے اپنے معاملہ کا فیصلہ کرالو۔ سب نے یہ رائے مان لی۔ اگلے دن جو شخص سب سے پہلے مسجد میں داخل ہوا وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ لوگوں نے جب آپ کو دیکھا تو کہا کہ یہ تو ”الامین“ ہیں۔ ہم ان پر راضی ہیں، یہ تو محمد ہیں— ہَذَا اْلأَمِيْنُ، رَضِيْنَا، هَذَا مُحَمَّدٌ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 182) اس کے بعد لوگوں نے اپنا مسئلہ آپ کے سامنے رکھا۔ آپ نے فرمایا کہ تم ایک کپڑا لاؤ۔ چنانچہ کپڑا لا کر آپ کو دیا گیا۔ آپ نے کپڑے کو زمین پر پھیلایا اور پھر حجرِ اسود کو اٹھا کر اس کپڑے پر رکھ دیا۔ آپ نے کہا کہ اب ہر قبیلہ اس کا ایک ایک کونا پکڑ لے پھر سب مل کر ایک ساتھ اس کو اٹھائیں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ جب وہ اس کو لے کر اصل مقام پر پہنچے تو آپ نے اپنے ہاتھ سے حجرِ اسود کو اٹھایا اور اس کو کعبہ کی دیوار میں وہاں رکھ دیا جہاں اس کو نصب کرنا تھا۔ اس کے بعد کعبہ کی تعمیر مکمل کی گئی۔ اختلاف اور لڑائی کا معاملہ پر امن طور پر حل ہوگیا۔ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 197) اس واقعہ سے اتحاد کے دو اصول ملتے ہیں۔ ایک یہ کہ قائد جو مرکز اتحاد کے طور پر کام کرے، اس کو اخلاقی اعتبار سے لوگوں کا معتمد علیہ ہونا چاہیے۔ لوگ اس کو سچے اور امانت دار کی نگاہ سے دیکھیں۔ لوگ اس کو اپنے سے کچھ اوپر محسوس کریں۔ جب تک ایسا ایک شخص درمیان میں نہ ہو، لوگوں کے درمیان اتحاد قائم نہیں ہوسکتا۔ دوسری بات یہ کہ قائد اتحاد دوسروں کا لحاظ کرنے والا ہو۔ ثمرہ اتحاد میں وہ تمام لوگوں کو حصہ دار بنائے۔ اتحادی عمل میں وہ ہر ایک کو شریک کرے۔ کامیاب قائد دوسروں کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader