Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 404

By Maulana Wahiduddin Khan

درمیان انہی کی طرح رہتا ہے۔ وہ ہر ایک کے ساتھ تواضع کا سلوک کرتا ہے۔ اس کے دل میں ہر ایک کے لیے خیر خواہی ہوتی ہے۔ وہ قائد ہوکر بھی اپنے آپ کو دوسروں کے برابر رکھتا ہے۔ یہی سچا قائد ہے۔ سنجیدگی شرط ہے لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا (33:21)۔ اللہ کے رسول میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے، اس شخص کے لیے جو اللہ کا اور آخرت کا دن کا امیدوار ہواور اللہ کو بہت زیادہ یادکرے۔ قرآن کی اس آیت میں اللہ کے رسول کو لوگوں کے لیے بہترین نمونہ بتایا گیا ہے۔ بظاہر یہ نمونہ قرآن اور حدیث اور سیرت کی کتابوں میں لکھا ہوا موجود ہے۔ مگر یہ نہیں فرمایا کہ اللہ کے رسول میں اس شخص کو اپنے لیے نمونہ ملے گا جو قرآن وحدیث اور سیرت کی کتابوں کو پڑھے بلکہ یہ فرمایا کہ یہ نمونہ جو پورے معنوں میں بہترین نمونہ ہے، وہ صرف اس شخص کو ملے گا جو اللہ سے ڈرے، جو آخرت کے لیے فکرمند ہو، جو اللہ کو بہت زیادہ یاد کرتا ہو۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول کا نمونہ جو کتابوں میں لکھا ہوا ہے وہ کوئی ریاضیاتی نوعیت کی چیز نہیں ہے۔ مثلاً کسی کتاب میں لکھا ہوا ہو کہ دو اور دول کر چار ہوتے ہیں، تو جو آدمی بھی اس کو کتاب میں پڑھے گا وہ اس کا ایک ہی مطلب نکالے گا۔ اس کو سمجھنے میں غلطی کرنے یا بھٹکنے کا کوئی امکان نہیں۔ مگر سیرت رسول کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ وہ ایک ایسی چیز ہے جس میں ہمیشہ مختلف تعبیرات کی گنجائش رہتی ہے۔ اس لیے اس کو صحیح طور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page