Urdu book · دینِ انسانیت

سنجیدگی شرط ہے

Urdu book, p. 405

By Maulana Wahiduddin Khan

پر اخذ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی پوری طرح سنجیدہ ہو۔ ذہن پر اللہ کا تصور چھایا ہوا ہو نا اور آخرت کے دن سے ڈرتے رہنا آدمی کے اندر یہی سنجیدگی پیدا کرتا ہے، اس لیے ایسا آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ رسول کے نمونہ کو صحیح طور پر اخذ کر سکے۔ جیسا کہ معلوم ہے، رسول اللہ کا نمونہ قرآن اور حدیث اور سیرت میں لکھا ہوا موجود ہے۔ مگر وہ دو اور دو چار کی طرح کوئی حسابی نوعیت کی چیز نہیں ہے۔ اس کا تعلق زندگی سے ہے۔ اور انسان کی زندگی ایک ایسی چیز ہے جو ہمیشہ حرکت میں رہتی ہے۔ وہ مختلف احوال سے گزرتی ہے۔ اس میں کبھی ایک قسم کی صورت حال پیش آتی ہے اور کبھی دوسری قسم کی صورت حال۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں مختلف قسم کی مثالیں ملتی ہیں۔ کبھی آپ دشمنوں کی مخالفانہ حرکتوں کو برداشت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور کبھی ان سے مقابلہ کرتے ہیں۔ کبھی آپ کو حکومت پیش کی جاتی ہے مگر آپ اس کو قبول نہیں کرتے اور کبھی خود حکومت قائم کرتے ہیں۔ کبھی آپ صرف ایمان اور اخلاق کی باتیں کرتے ہیں اور کبھی ایسے احکام بیان کرتے ہیں جن کا تعلق سیاست اور اجتماعی قانون سے ہوتا ہے۔ کبھی آپ آخرت کے مسئلہ پر اس طرح زور دیتے ہیں جیسے کہ وہی سب کچھ ہے اور کبھی دنیوی تدبیروں کی اہمیت بتاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس قسم کا فرق و اختلاف کے نمونہ کو تعبیر کی نوعیت ایک چیز بنا دیتا ہے۔ آپ کے نمونہ سے ہدایت لینے کے لیے ضروری ہوتی ہے کہ آدمی ایک چیز اور دوسری چیز کا فرق جانے۔ وہ ایک حالت میں اور دوسری حالت میں تمیز کر سکے۔ وہ اس حکمت سے آگاہ ہو کہ کب کون سا اسوہ مطلوب ہے اور کب کون سا اسوہ مطلوب ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page