دینِ انسانیت
Urdu book, p. 406
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی کا نام تعبیر صحیح ہے۔ اور اس تعبیر صحیح کی استعداد آدمی کے اندر صرف اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ خوف خدا اور فکر آخرت نے اس کو انتہائی حد تک سنجیدہ بنا دیا ہو۔ جو آدمی سنجیدہ نہ ہو وہ ایک موقع کی بات کو دوسرے موقع پر چسپاں کر دے گا۔ وہ اس فکری غلطی کا ارتکاب کرے گا جس کو ’’وَضْعُ الشَّيْءِ غَيْرِ مَوْضِعِہٖ‘‘ کہا گیا ہے۔ وہ اس عوامی کہاوت کا مصداق بن جائے گا کہ کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا، بھان متی نے کنبہ جوڑا۔ جس آدمی کے اندر گہری سنجیدگی اور شدید احتیاط کی مذکورہ صفت موجود نہ ہو وہ تعبیر کی غلطیوں کی وادی میں بھٹکتا رہے گا، وہ اسوہ رسول سے کبھی اپنے لیے نمونہ حاصل نہ کر سکے گا۔ ایسے شخص کا حال یہ ہوگا کہ جہاں احتساب خویش کے حکم پر عمل کرنے کی ضرورت ہو وہاں انتقام غیر کی آیت کا حوالہ دے گا۔ جہاں صبر کا موقع ہو وہاں وہ جہاد کی باتیں کرے گا۔ جہاں حدیبیہ کی سنت مطلوب ہو وہاں وہ دفاع کی حدیث سنائے گا۔ جہاں غیر قوم کے ساتھ مدعو کا معاملہ کرنا ہو وہاں وہ اس کے خلاف بدر و حنین کا معرکہ گرم کرنے پر تقریر کرے گا۔ جہاں خود اپنے اندر دینی کردار پیدا کرنے کا وقت ہو وہاں وہ پیغمبر کے حاکمانہ اسوہ کو جوش و خروش کے ساتھ پیش کرے گا۔ جہاں یہ ضرورت ہو کہ اہل ایمان دعوت الی اللہ کے لیے اٹھیں وہاں وہ قتال کی آیتوں اور حدیثوں کا دفتر کھول دے گا۔ ایک شہادت انسائیکلوپیڈیا برطانیہ (1984) میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر جو مقالہ ہے، اس کے آخر میں مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ بہت کم بڑے لوگ اتنا زیادہ بدنام کیے گئے ہیں جتنا کہ محمد کو بدنام کیا گیا۔ قرون وسطیٰ کے یورپ کے مسیحی علما نے ان کو فریبی اور عیاش اور خونی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader