حق کا اعتراف
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
حق کا اعتراف خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانہ میں 16ھ میں عراق فتح ہوا۔ اس کے بعد یہ سوال تھا کہ دجلہ و فرات کے علاقہ کی زرخیز زمینیں جو مسلمانوں کے قبضہ میں آئی ہیں ، ان کا انتظام کس طرح کیا جائے ۔ سابق رواج کے مطابق ، فوجی سرداروں کی رائے یہ تھی کہ اس مفتوحہ زمین کا بڑا حصہ فوجیوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے۔ حضرت عمر کی رائے اس کے خلاف تھی۔ ان کی رائے یہ تھی کہ زمین کو سرکاری بیت المال کے زیر تصرف رہنا چاہئے تا کہ آئندہ نسلوں تک اس کا فائدہ تمام لوگوں کو مل سکے ۔ اس مسئلہ پر سخت اختلاف ہوا اور کئی دن تک بحث جاری رہی ۔ خاص طور پر خالد بن الولید ، عبدالرحمن بن عوف اور بلال بن رباح نے اتنی زیادہ حجت کی کہ حضرت عمر فاروق کی زبان سے یہ الفاظ نکل آئے کہ: اَللّٰهُمَّ اِكْفِنِيْ بِلَالًا (السنن الکبری للبیہقی ، حدیث نمبر 18392)۔ یعنی ، اے اللہ، تو مجھ کو بلال سے نجات دے۔ اس کے بعد اس مسئلہ کو طے کرنے کے ایک مشاورتی بورڈ بنایا گیا جس میں حضرت عثمان ، حضرت علی اور حضرت طلحہ جیسے لوگ تھے ۔ اس کے باوجود اتفاق رائے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکا۔ کئی دن کی بحث کے بعد آخر کار حضرت عمر کو قرآن کی یہ آیت یاد آئی کہ (غنیمت میں) ان مفلس مہاجروں کے لیے حصہ ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکالے گئے ہیں ۔ وہ اللہ کا فضل اور رضا مندی چاہتے ہیں ۔ اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں ، یہی لوگ سچے ہیں۔ اور جو لوگ پہلے سے دار الاسلام میں قرار پکڑے ہوئے ہیں اور ایمان استوار کیے ہوئے ہیں ، جوان کے پاس ہجرت کر کے آتا ہے اس سے وہ محبت کرتے ہیں ، اور وہ اپنے دلوں میں اس سے تنگی نہیں پاتے جو مہاجرین کو دیا جاتا ہے۔ اور وہ ان کو اپنے اوپر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader