اسلام مذہب امن
Urdu book, p. 412
By Maulana Wahiduddin Khan
کہی تھی۔ اس میں وہ اپنے قبیلہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ میری قوم لوگوں کی سردار ہے۔ اور سردار ہی اس وقت قائد بنتا ہے جب کہ شعلہ بار ہتھیلیوں نے جنگ کی آگ کو بھڑکادیا ہو: وَقَوْمِي رُؤُوْسُ النَّاسِ وَالرَّأْسُ قَائِدٌ إِذَا الحَرْبُ شَنَّتْهَا الأَكُفُّ المَسَاعِرُ (لباب الاداب لآسامۃ بن منقذ، جلد 1، صفحہ 220)۔ زید الخیل ہجرت کے بعد مدینہ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور اسلام قبول کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید الخیل کا نام پسند نہیں کیا۔ آپ نے ان کا نام بدل کر زید الخیر رکھ دیا۔ 9 ھ میں مدینہ میں ان کا انتقال ہوا۔ یہ واقعہ اسلام کی اسپرٹ کو بتاتا ہے۔ اسلام دین رحمت ہے۔ اسلام کا مقصد آدمی کو زید شہ سوار بنانا نہیں ہے۔ بلکہ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ آدمی زید صاحب خیر بنے۔ قدیم عرب میں گھوڑا دوڑانا اور تلوار کا کمال دکھانا ہیروانہ کام سمجھا جاتا تھا۔ پیغمبر اسلام نے ان کے جذبات کو موڑا۔ اور ان کو یہ ذہن دیا کہ وہ خیر کے حامل بنیں، وہ خیر کے میدان میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیں۔ وہ لوگوں کو موت کا تحفہ نہ دیں بلکہ وہ لوگوں کو زندگی کا تحفہ دینے کی کوشش کریں۔ آج کل کی زبان میں اگر کہا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام کا مقصد تخلیقی (creative) انسان پیدا کرنا ہے۔ اللہ پر ایمان آدمی کے اندر تخلیقی اوصاف کو جگا دیتا ہے۔ وہ ہر اعتبار سے ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔ اس کی سوچ عام سوچ سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ اس کا کردار دوسرے لوگوں کے کردار سے بلند ہو جاتا ہے۔ وہ زمین میں رہتے ہوئے ایک آسمانی انسان بن جاتا ہے۔ وہ ظواہر میں جینے کے بجائے حقائق میں جینے لگتا ہے۔ دوسرے لوگ اگر اپنی ذات کو چاہنے والے ہوتے ہیں تو وہ خیر کو چاہنے والا ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader