اسلام مذہب امن
Urdu book, p. 413
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسرے لوگ اگر استحصال کرنے والے ہوتے ہیں تو وہ نفع پہنچانے والا ہوتا ہے۔ دوسرے لوگوں کے مزاج میں اگر سرکشی ہوتی ہے تو اس کے مزاج میں تواضع ہوتی ہے۔ دوسرے لوگوں کی خصوصیت اگر جنگ پسند ہوتی ہے تو اس کی خصوصیت امن پسند۔ دوسرے افراد اگر لوگوں کو مار کر خوش ہوتے ہیں تو وہ لوگوں کو زندگی دے کر خوشی حاصل کرتا ہے۔ دوسروں کے پاس اگر لوگوں کے لیے نفرت کا تحفہ ہوتا ہے تو اس کے پاس صرف محبت کا تحفہ، خواہ دوسرے لوگ اس سے نفرت کا معاملہ کیوں نہ کر رہے ہوں۔ صحیح البخاری میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے اجتماعی امور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کیا تھا۔ امام البخاری نے یہ حدیث چار ابواب کے تحت نقل کی ہے۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں : مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3560)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو معاملوں میں سے ایک کو لینا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کو لیتے تھے۔ یہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کے درمیان آپ کو جو معاملات پیش آتے تھے، ان میں آپ ہمیشہ آسان پہلو کا انتخاب فرماتے تھے۔ جب ایک طریقہ امن کا ہو اور دوسرا طریقہ ٹکراؤ کا، ایک طرف نزاع ہو اور دوسری طرف موافقت ہو، ایک جنگ کا راستہ ہو اور دوسرا صلح کا راستہ ہو، تو ان تمام صورتوں میں آپ اسی صورت کو اختیار کرتے تھے جو نسبتاً سہل اور آسان ہو۔ غور کیا جائے تو یہ اصول آپ کی پوری زندگی پر چھایا ہوا نظر آئے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت ایک معلوم اور مشہور سنت ہے۔ مگر عام طور پر اس کا انطباق صرف چھوٹے چھوٹے امور میں کیا جاتا ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader