Urdu book · دینِ انسانیت

اسلام مذہب امن

Urdu book, p. 414

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ علیہ وسلم جب جماعت کے ساتھ نماز پڑھارہے ہوتے اور پیچھے سے کسی بچہ کے رونے کی آواز آجاتی جس کو اس کی ماں مسجد میں لائی تھی تو آپ نماز کو مختصر کر دیتے۔ ایسی حالت میں آپ لمبی سورہ پڑھنے کے بجائے چھوٹی سورہ پڑھ کر نماز کو جلد ختم کر دیتے تاکہ بچہ کی ماں کو پریشانی نہ ہو (صحیح البخاری، حدیث نمبر 707)۔ مگر زیادہ بڑے بڑے امور میں اس سنت کا ذکر نہیں کیا جاتا اور نہ بڑے امور میں اس کو منطبق کیا جاتا ہے۔ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو اس وقت کعبہ میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ اگر آپ کعبہ کی تطہیر سے اپنی مہم کا آغاز کرتے تو یہ آپ کے لیے مشکل انتخاب ہوتا۔ اس لیے آپ نے دلوں کی تطہیر سے اپنے کام کا آغاز فرمایا۔ چنانچہ قرآن میں پہلی آیت یہ اتاری گئی کہ: اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (96:1)۔ یعنی، پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ گویا کہ طَهِّرِ الْكَعْبَةَ مِنَ الْأَصْنَامِ (کعبہ کو بتوں سے پاک کرو) کے بجائے آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ طَهِّرِ الْقُلُوبَ مِنَ الْأَصْنَامِ (دلوں کو بتوں سے پاک کرو)۔ مکی زندگی کے آخر میں آپ کے مخالفین آپ کو قتل کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ اس وقت ایک صورت یہ تھی کہ آپ دفاعی ذہن کے تحت تمام مسلمانوں کو متحد کر کے جنگ کا طریقہ اختیار کرتے۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ خاموشی کے ساتھ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے اور دوسرے مسلمانوں کو بھی ایسا ہی کرنے کا مشورہ دیا۔ یہ مقابلہ کے بجائے ترک مقام کو اختیار کرنا تھا۔ حدیبیہ کے واقعہ میں آپ کے لیے جنگ اور واپسی میں انتخاب کا مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ آپ نے یہاں بھی جنگ کے طریقہ کو چھوڑا اور میدان سے واپسی کے طریقہ کو لے لیا۔ جن لوگوں نے حج یا عمرہ کیا ہے۔ انہوں نے دیکھا ہے کہ کعبہ سے متصل ایک جگہ ہے جس کو حطیم کہا جاتا ہے۔ یہ جگہ حضرت ابراہیم کی تعمیر کے مطابق، کعبہ میں شامل تھی۔ بعد کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page