Urdu book · دینِ انسانیت

اسلام مذہب امن

Urdu book, p. 415

By Maulana Wahiduddin Khan

مشرکین نے نئی تعمیر کے وقت اس کو الگ کر دیا۔ فتح مکہ کے بعد آپ کو موقع تھا کہ کعبہ کو از سر نو بنا کر حطیم کو اس میں شامل کر دیں۔ مگر اس وقت کے حالات میں یہ ایک نزاعی کام تھا۔ چنانچہ نزاع سے بچنے کی خاطر آپ نے کعبہ کو اسی حالت میں چھوڑ دیا جیسا کہ مشرکین نے اسے بنایا تھا۔ غور کیا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اسی اصول (اختیار ایسر) کا مصداق نظر آئے گی۔ آپ نے ہمیشہ ہر معاملہ میں مشکل طریقہ کو چھوڑ کر آسان طریقہ کا انتخاب فرمایا ہے۔ اسی اصول کو موجودہ زمانہ میں پرامن طریقہ عمل (peaceful method) کہا جاتا ہے۔ جنگ اور تشدد کا طریقہ اسلام کے لیے مفید نہیں ہے۔ جنگ باز آدمی تشدد کے ذریعہ اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس قسم کا طریقہ اسلام کے لیے بالکل اجنبی ہے۔ کیونکہ اسلام کا مقصد دل و دماغ کو بدلنا ہے اور دل و دماغ کو بدلنے کا کام تشدد کے ذریعہ کیا جانا ممکن نہیں۔ دل و دماغ کو بدلنے کا کام نصیحت (persuasion) کے ذریعہ ہوتا ہے نہ کہ طاقت (force) کے ذریعہ۔ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی معرفت حاصل ہو۔ لوگ آخرت کی جوابدہی کے احساس میں جینے والے بنیں۔ لوگوں کے اندر وہ اعلیٰ روحانی اوصاف پیدا ہوں جن کو تقویٰ، خشیت، انابت، تضرع، اخبات، وغیرہ الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ لوگ حق کو پہچاننے والے اور حق کا اعتراف کرنے والے بنیں۔ لوگوں کے اندر وہ ربانی شخصیت پرورش پائے جو جنت میں بسائے جانے کے قابل ہو۔ یہی اسلام کا اصل مطلوب ہے، اور جنگ یا تشدد کے ذریعہ اس مطلوب کو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کو حاصل کرنے کا ذریعہ صرف ایک ہے، اور وہ پرامن دعوت و تبلیغ ہے۔ اسلام کے طریق کار کو ایک لفظ میں دعوتی طریقہ کہا جا سکتا ہے، نہ کہ جنگ جویانہ طریقہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page