اسلام مذہب امن
Urdu book, p. 416
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسری بات یہ ہے کہ اسلام ایک دعوت ہے۔ اور دعوتی عمل صرف پرامن حالات میں انجام دیا جاسکتا ہے۔ جہاں تناؤ اور ٹکراؤ کا ماحول ہو وہاں دعوت و تبلیغ کا کام کرنا ممکن نہیں۔ اس لیے اسلام چاہتا ہے کہ ہر قیمت پر انسانوں کے درمیان امن قائم رہے۔ حتیٰ کہ امن کے قیام کے لیے اگر اہل اسلام کو یک طرفہ قربانی دینا پڑے تو یک طرفہ قربانی دے کر انہیں امن وامان کو قائم کرنا چاہیے۔ طریق کار ہمیشہ آدمی کے اپنے مشن کے اعتبار سے متعین ہوتا ہے۔ اسی لیے دادا گیری کرنے والے کا طریق کار ایک تاجر کے طریق کار سے مختلف ہوتا ہے۔ دادا کا مقصد لوگوں کو خوف زدہ کرنا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ لوگ جتنا زیادہ اس سے خوف میں رہیں گے اتنا ہی زیادہ اس کو اپنا مقصد حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ اس لیے دادا یہ کرتا ہے کہ وہ تشدد اور ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ وہ لوگوں کو اپنی طاقت کا تجربہ کراتا ہے۔ کیونکہ ڈر کی نفسیات اسی طریقہ کے ذریعہ پیدا کی جاسکتی ہے۔ مگر تاجر کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ تاجر کا مقصد لوگوں کو اپنا گرویدہ بنانا ہے۔ گرویدہ ہونے کے بعد ہی کوئی شخص ایک تاجر کے سامنے اپنی جیب خالی کرنے پر راضی ہو سکتا ہے۔ اس لیے تاجر محبت اور صلح کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ کیونکہ محبت اور صلح کے ذریعہ ہی وہ کسی کو اپناگا ہک بنا سکتا ہے۔ اسلام ایک دعوتی مذہب ہے۔ اس لیے اسلام اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ دادا گیری والا طریقہ اختیار کرے۔ اسلام کے لیے صرف تاجر والا طریقہ ہی مفید اور کارگر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں یک طرفہ حسن سلوک پر زور دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں جنگ کے بجائے صلح اور تشدد کے بجائے امن کی تاکید کی گئی ہے۔ اسلام کا مقصد لوگوں کا ذہن بدلنا اور ان کا دل جیتنا ہے۔ اور اس قسم کا سنجیدہ کام صرف پرامن طور پر ہی انجام دیا جاسکتا ہے۔ تشدد کا طریقہ اسلام کی راہ میں رکاوٹ ہے، نہ کہ معاون۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader