حق کا اعتراف
Urdu book, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
مقدم رکھتے ہیں، اگرچہ ان کے اوپر فاقہ ہو۔ اور جو شخص اپنے جی کے لالچ سے بچالیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ اور جو اُن کے بعد آئے: وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ _ (59:8-10) حضرت عمر فاروق نے لوگوں کو قرآن کی یہ آیت سنائی اور کہا کہ اس آیت میں غنیمت اور فی کا حکم بیان کرتے ہوئے والذین جاءوا من بعدهم (اور جو ان کے بعد آئے) لفظ ہے۔ اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ فتوحات کے ذریعہ جو اموال ملیں وہ صرف حال کے لوگوں کے لیے نہیں ہیں بلکہ اس میں آنے والی نسلوں کا بھی حق ہے۔ اگر مفتوحہ زمینوں کو میں موجودہ فاتحین کے درمیان بانٹ دوں تو ہماری آئندہ نسلوں کو اس میں حصہ نہیں مل سکے گا۔ اور یہ قرآن کے منشاء کے خلاف ہوگا۔ حضرت عمر کے اس استدلال کو تمام لوگوں نے مان لیا اور ایک زبان ہو کر کہا کہ آپ ہی کی رائے درست ہے۔ (دیکھیے، الخراج لابی یوسف، صفحہ 37)۔ اس کے بعد یہ اصول قائم ہو گیا کہ فتوحات کے ذریعہ جو زمینیں اسلامی مملکت میں داخل ہوں وہ حکومت اسلامی کی ملکیت قرار پائیں نہ یہ کہ فوج کے افراد میں تقسیم ہو کر ان کی انفرادی ملکیت میں چلی جائیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سورہ حشر کی مذکورہ آیت نے لوگوں کے ہونٹ سی دئے اور اب ان کے لیے کچھ بولنے کا موقع باقی نہ رہا۔ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں میں قبولیت حق کا مادہ تھا۔ ان کی بحث نہ سمجھنے کی وجہ سے تھی نہ کہ محض سرکشی کی بنا پر۔ اس لیے جب قرآن کی آیت نے حقیقت کھول دی تو اس کے بعد ان کے لیے سمجھنا کچھ دشوار نہ رہا۔ اس دنیا میں بولنے کی گنجائش اتنی زیادہ ہے کہ آدمی ہر دلیل کے جواب میں اس کے خلاف بولنے کے لیے کچھ نہ کچھ الفاظ پا لیتا ہے۔ اب جو لوگ غیر سنجیدہ ہیں وہ اسی طرح ہر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader