Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

دلیل کے جواب میں الفاظ کا ایک مجموعہ پیش کر کے اسے رد کر دیتے ہیں۔ مگر جو لوگ سنجیدہ ہوں اور اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جواب دہ سمجھتے ہوں۔ وہ نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض اوقات کسی بات کے مخالف بن جاتے ہیں۔ مگر جب اس بات کو زیادہ واضح دلائل سے ثابت کر دیا جائے تو وہ فوراً مان لیتے ہیں۔ اس کے بعد انھیں اصل بات کو ماننے میں کوئی الجھن پیش نہیں آتی۔ مذکورہ واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اظہارِ خیال کی آزادی کے آداب و قواعد کیا ہیں۔ وہ یہ ہیں کہ ایک عام آدمی کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ خلیفۂ وقت سے اختلاف کرے۔ مگر اسی کے ساتھ آدمی کو ایسا ہونا چاہیے کہ جب دلیل سامنے آئے تو وہ اس کو پہچان سکے اور اس کے بعد اپنے اختلافات کو ختم کر دے۔ حق کی برتری ایک عالم کا واقعہ ہے۔ انھوں نے ایک مسئلہ میں اپنے شیخ طریقت پر تنقید کی اور ان سے مختلف رائے دی۔ کسی شخص نے کہا کہ آپ اپنے شیخ سے اختلاف کر رہے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ شیخ ہم کو محبوب ہیں۔ مگر حق ہمیں شیخ سے بھی زیادہ محبوب ہے (اَلشَّيْخُ حَبِیْبُ إِلَیْنَا وَلَکِنَّ الْحَقَّ أَحَبُّ إِلَیْنَا مِنَ الشَّيْخِ)۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اختلاف اور تنقید کے معاملہ میں صحیح نقطۂ نظر کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہر آدمی کا حسبِ مراتب احترام کیا جائے گا۔ ہر ایک کے انسانی اور اخلاقی حقوق پوری طرح ادا کیے جائیں گے۔ مگر جب حق کا معاملہ سامنے آجائے تو حق کو سب سے زیادہ برتری حاصل ہوگی۔ انسان اور انسان کا مقابلہ ہو تو انسان اہم ہے۔ اور انسان اور حق کا مقابلہ ہو تو حق اہم ہے۔ حق کی اہمیت مطلق ہے اور انسان کی اہمیت مقید۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page