دینِ انسانیت
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
اصل یہ ہے کہ انسان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک طالب خویش اور دوسرا طالب حق۔ طالب خویش اپنی ذات میں جیتا ہے۔ اس کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ اس کی اپنی شخصیت نمایاں ہو۔ اس کی بڑائی تسلیم کی جائے۔ یہی وہ آدمی ہے جو تنقید و اختلاف سے بھڑکتا ہے۔ کیوں کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ تنقید اس کی شخصی عظمت کو گھٹا رہی ہے۔ طالب حق کی نفسیات اس سے بالکل جدا ہوتی ہے۔ وہ صرف حق کا طالب ہوتا ہے۔ وہ تنقید کو اپنی ذات پر حملہ نہیں سمجھتا۔ وہ تنقید کو صرف اس نظر سے دیکھتا ہے کہ وہ حق ہے یا ناحق۔ تنقید اگر غلط ہے تو وہ سادہ طور پر اسے نظر انداز کر دیتا ہے۔ لیکن تنقید اگر برحق ہے تو وہ فوراً اس کو قبول کر لے گا۔ کیونکہ ایسی تنقید میں اس کو عین وہی چیز ملتی ہوئی نظر آئی جو پہلے سے اس کا مطلوب و مقصود تھی۔ جارحیت نہیں خدا نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے۔ اس لیے انسان خود اپنی فطرت کے تحت یہ چاہتا ہے کہ وہ آزادانہ طور پر سوچے اور آزادانہ طور پر اظہار خیال کرے۔ انسانی فطرت کی یہ ایسی خصوصیت ہے جس کو کسی طرح بھی انسان سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان ایک منفرد وجود ہے۔ ہر انسان کا طرز فکر دوسرے تمام انسانوں سے جدا ہے۔ اس لیے یہ ناممکن ہے کہ تمام لوگ ایک ڈھنگ پر سوچنے لگیں۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اختلاف ایک تقضائے فطرت ہے، ایسی حالت میں انسانوں کے درمیان اختلاف کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ انسان کے بارے میں صحیح اور ممکن رویہ صرف یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے مقابلہ میں تحمل کا طریقہ اختیار کریں۔ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader