جارحیت نہیں
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
دنیا میں جو شخص جتنا زیادہ متحمل ہوگا اتنا ہی زیادہ وہ کامیاب ہوگا۔ مورخین اسلام اس پر متفق ہیں کہ عملی اعتبار سے حضرت امیر معاویہؓ ایک نہایت کامیاب حکمران تھے۔ ان کی کامیابی کا راز یہ نہیں تھا کہ انھوں نے اپنی زیر حکم دنیا میں اختلاف کو مٹا دیا تھا۔ اس کے بجائے ان کی کامیابی کا راز وہ تھا جس کو ایک مورخ نے ’’الحلم السیاسی‘‘ کا نام دیا ہے۔ وہ انتہائی غیر موافق بات کو انتہائی تحمل کے ساتھ سن سکتے تھے۔ ابن قتیبہ نے ان کا ایک واقعہ ان الفاظ میں نقل کیا ہے: أَغْلَظَ رَجُلٌ لِمُعَاوِيَةَ فَحَلُمَ عَنْهُ، فَقِيلَ لَهُ: تَحْلُمُ عَنْ هَذَا! فَقَالَ: إِنِّي لَا أَحُولُ بَيْنَ النَّاسِ وَبَيْنَ أَلْسِنَتِهِمْ مَا لَمْ يَحُولُوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ سُلْطَانِنَا ( عیون الاخبار لابن قتیبة الدینوری، جلد 1، صفحہ 397 )۔ یعنی، ایک شخص نے امیر معاویہ سے سخت کلامی کی۔ انھوں نے اس سے درگزر کیا۔ ان سے کہا گیا کہ آپ ایسے آدمی سے درگزر کا معاملہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ میں لوگوں کے درمیان اور ان کی زبان کے درمیان حائل نہیں ہوتا جب تک وہ ہمارے درمیان اور ہماری سلطنت کے درمیان حائل نہ ہوں۔ اس تحمل کا تعلق صرف سلطنت یا سیاسی اقتدار سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ ہر آدمی کی اپنی ایک دنیا ہوتی ہے، خواہ وہ سیاسی دائرہ میں ہو یا غیر سیاسی دائرہ میں، آپ انسان کی اس دنیا کو ٹھوکر نہ ماریں۔ بلکہ اپنا اختلاف تمام تر صرف دلائل پیش کرنے تک محدود رکھیں، اگر آپ ایسا کریں تو معاشرہ میں کوئی خلل واقع نہ ہوگا۔ البتہ اختلاف اس وقت خلل اندازی کے ہم معنی بن جاتا ہے جب آپ آدمی کی اپنی مخصوص دنیا کے ساتھ تصادم چھیڑ دیں۔ اختلاف کا صحیح اور فطری اصول یہ ہے کہ اختلاف کو صرف اختلاف کے دائرہ میں رکھا جائے، اس کو تصادم یا عملی جارحیت کے درجہ تک ہرگز پہنچنے نہ دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader