Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک حاکم کے لیے عملی جارحیت یہ ہے کہ اختلاف کرنے والا نظری اختلاف کی حد سے گزر کر اس کے اقتدار سے ٹکرانا شروع کردے۔ وہ اس کے قلب و دماغ کو مخاطب کرنے کے بجائے اس کے سیاسی وجود کو مٹانے پر تل جائے۔ ایک عام انسان کے لیے عملی جارحیت یہ ہے کہ آدمی سنجیدہ اختلاف کی حد پر نہ رکے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر وہ زیر اختلاف شخص کی ذات کو مطعون کرنے لگے۔ وہ اس کی تذلیل و تحقیر کرے۔ وہ اس کو بدنام کرنے کی مہم چلائے۔ اس کی حیثیت عرفی کو بگاڑنے کی کوشش کرے۔ لوگوں میں اس کے خلاف نفرت پیدا کرے۔ اس کے اخلاقی قتل کی مہم چلائے۔ سازشی منصوبہ کے ذریعہ وہ اس کی تدبیر کرے کہ اس کے سماجی تعلقات ٹوٹ جائیں اور وہ اپنے ماحول میں اکیلا ہو کر رہ جائے۔ عملی جارحیت کیا ہے، اس کا تعین ہر آدمی کے اپنے حالات کے لحاظ سے کیا جائے گا اصولی طور پر عملی جارحیت یہ ہے کہ آدمی کے دماغ سے اپیل کرنے کے بجائے خود اس کے وجود سے تصادم شروع کر دیا جائے۔ اس کو سنجیدہ دلائل سے قائل کرنے کے بجائے غیر سنجیدہ طریقوں سے اسے زیر کرنے کی کوشش کی جائے۔ آزادی ہر انسان کا فطری حق ہے۔ مگر اس حق کو استعمال کرنے کی لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی اپنی آزادی کو تشدد اور جارحیت تک نہ لے جائے۔ مشترک ذمہ داری ابن ماجہ نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں یہ حدیث نقل کی ہے کہ بابرکت ہے وہ بندہ جس کو اللہ نے بھلائی کا دروازہ کھولنے والا اور برائی کا دروازہ بند کرنے والا بنایا : فَطُوبَیٰ لِعَبْدِ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحاً لِلْخَيْرِ ، مِغْلَقاً لِلشَّرِّ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 238)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page