Urdu book · دینِ انسانیت

مشترک ذمہ داری

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک سچے اسلامی معاشرہ میں لوگ کس احساس کو لے کر جیتے ہیں۔ ایسے معاشرہ میں ہر آدمی اس احساس کے تحت جی رہا ہوتا ہے کہ معاشرہ کے احوال میں اسے غیر جانب دار نہیں رہنا ہے بلکہ ہر موقع پر اپنا اصلاحی کردار ادا کرنا ہے۔ جہاں اس کو نظر آئے کہ وہ ایک بھلائی کی روایت قائم کر سکتا ہے تو فوراً وہ اس کے لیے آمادہ ہو جائے گا۔ اسی طرح جہاں اس کو دکھائی دے کہ ایک شر جنم لے رہا ہے تو فوراً وہ اس کو روکنے کے لیے کمر بستہ ہو جائے گا۔ خیر کا راستہ کھولنا اور شر کا دروازہ بند کرنا ایمان کے تقاضوں میں سے ایک اہم تقاضا ہے۔ اسلام کا یہ مطلوب اصلاحی عمل کسی ایسے معاشرہ ہی میں انجام دیا جا سکتا ہے جہاں تنقید کو برا نہ سمجھا جاتا ہو۔ جہاں باتوں کو اس لحاظ سے نہ دیکھا جائے کہ وہ کس کے موافق ہے اور کس کے خلاف ۔ اس کی وجہ سے کس کی شخصیت اونچی ہوتی ہے اور کس کی شخصیت نیچی۔ حتی کہ کلام کے اس پہلو کو بھی نظر انداز کر دیا جائے کہ وہ نرم الفاظ میں ہے یا سخت الفاظ میں۔ معاشرہ میں جب تک اس قسم کا آزادانہ ماحول نہ ہو، کسی کے لیے مذکورہ مومنانہ عمل انجام دینا ممکن ہی نہیں۔ کسی معاشرہ میں اس روح کا پایا جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس معاشرہ کے افراد صرف اپنے لیے نہیں سوچتے بلکہ دوسروں کے لیے بھی سوچتے ہیں۔ ان کے اندر اعلیٰ انسانی اور اخلاقی احساسات زندہ ہیں۔ وہ اپنے ماحول کے بارے میں انتہائی سنجیدہ ہیں۔ وہ حق کے لیے کسی اور کی رعایت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کے دل میں ہر ایک کے لیے خیر خواہی کا جذ بہ موجود ہے۔ وہ مجموعی انسانیت کا فائدہ چاہتے ہیں نہ کہ صرف اپنایا اپنی ذات کا فائدہ۔ تا ہم یہ نیکی صرف ان لوگوں کا مقدر ہے جو اظہار حق کے ساتھ قبولیت حق کا مادہ بھی اپنے اندر رکھتے ہوں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page