Urdu book · دینِ انسانیت

مشترک ذمہ داری

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

بھلائی کا دروازہ کھولنا اور برائی کا دروازہ بند کرنا ، یہ کوئی یک طرفہ عمل نہیں ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ کسی فرد یا گروہ کو خدائی لائسنس دے دیا گیا ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کا احتساب کریں اور دوسروں کو ان کا احتساب کرنے کا حق نہ ہو۔ بلکہ یہ دوطرفہ عمل ہے، اور معاشرہ کے سبھی لوگوں کی طرف سے سبھی لوگوں کے اوپر جاری رہتا ہے۔ اسی لیے قرآن وحدیث میں اس کے لیے وہ صیغے استعمال کیے گئے ہیں جن میں دوطرفہ مشارکت کا مفہوم ہے۔ مثلاً فرمایا کہ: وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ (103:3) یعنی، ایک دوسرے کو باہم حق کی نصیحت کرو۔ اسی طرح فرمایا کہ: کَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ (5:79)، یعنی، وہ بگاڑ کے وقت ایک دوسرے کو برے کام سے روکتے نہیں تھے۔ اسی طرح حدیث میں ہے کہ: بَلِ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر (4341)۔ یعنی تم آپس میں ایک دوسرے کو معروف کی تلقین کرو اور آپس میں ایک دوسرے کو برائی سے روکو۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق کے بہت سے واقعات اس سلسلہ میں سیرت کی کتابوں میں آئے ہیں۔ مثلاً متعدد بار ایسا ہوا کہ انھوں نے ایک حکم جاری کیا۔ ایک شخص نے شرعی دلیل کے ساتھ بتایا کہ آپ کا حکم درست نہیں۔ اس کے بعد فوراً انھوں نے اپنا حکم واپس لے لیا اور کہا کہ: لَوْلا فُلانٌ لَهَلَكَ عُمَرُ (السنن الکبری للبیہقی، اثر نمبر 15558)۔ یعنی، اگر فلاں شخص نہ ہوتا تو عمر ہلاک ہو جاتاہا۔ ایک مرتبہ حضرت عمر رات کے گشت پر نکلے۔ دیکھا کہ ایک آدمی شہر کے باہر کھڑا ہوا ایک عورت سے بات کر رہا ہے۔ انھوں نے اس کو کوڑا امار دیا۔ اس نے کہا کہ آپ نے کیوں مجھے کوڑا امارا۔ حضرت عمر نے کہا کہ تم رات کے وقت ایک اجنبی عورت سے بات کر رہے ہو۔ اس نے بتایا کہ یہ اجنبی عورت نہیں ہے، یہ میری بیوی ہے۔ ہم دونوں باہر سے آ کر ابھی یہاں پہنچے ہیں۔ ہم مشورہ کر رہے تھے کہ اس وقت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page