دینِ انسانیت
Urdu book, p. 54
By Maulana Wahiduddin Khan
شہر میں کس کے گھر جائیں۔ حضرت عمر نے فوراً کوڑا مذکورہ آدمی کے ہاتھ میں دے دیا اور کہا کہ اب تم مجھے کوڑ ا مارو، کیوں کہ اس معاملہ میں اصل غلطی میری تھی۔ یہی ہمیشہ تمام صالحین کا معاملہ رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو آدمی اپنے خلاف تنقید سننے کے لیے تیار نہ ہو، اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دوسروں کے اوپر تنقید کرے۔ اسلام میں اختلاف اور محاسبہ کا حق ایک مشترک حق ہے نہ کہ کسی ایک کا مخصوص حق۔ آزادی کی حد فکری آزادی بلاشبہ کسی انسان کے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔ مگر اس دنیا میں ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے، اسی طرح آزادی کی بھی حد ہے۔ آزادی اپنی حد کے اندر نعمت ہی نعمت ہے۔ مگر اپنی حد کے باہر وہ فساد ہی فساد ہے۔ فکری آزادی کی حد یہ ہے کہ وہ معلوم اور ثابت شدہ حقیقتوں کے دائرہ میں جاری ہو، مفروضات اور قیاسات کی بنیاد پر نہ کوئی رائے قائم کی جائے اور نہ اس قسم کی بے اصل باتوں کو لے کر کوئی نظریاتی عمارت کھڑی کی جائے۔ قرآن میں اہل ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ اور تم ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کی تم کو خبر نہیں۔ بے شک کان اور آنکھ اور دل سب کی بابت آدمی سے پوچھ ہوگی (17:36)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو غیر ذمہ دارانہ کلام سے بچنا چاہے۔ اس کو وہی بات بولنا چاہیے جس کی بابت سننے اور دیکھنے اور سمجھنے کی طاقتوں کو بھر پور طور پر استعمال کر کے وہ اس کی تحقیق کر چکا ہو۔ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو وہ اس بات کا مجرم قرار دیا جائے گا کہ خدا کی دی ہوئی ضروری صلاحیتوں کو استعمال کیے بغیر بالکل بے بنیاد طور پر اس نے اظہار خیال کرنا شروع کر دیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader