Urdu book · دینِ انسانیت

آزادی کی حد

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

آدمی اگر کسی شخص کے خلاف یا کسی مسئلہ کے بارے میں کلام کرنا چاہتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس کی پوری تحقیق کرے۔ وہ اظہارِ خیال سے پہلے پوری طرح اس کی جانچ کرے ۔ اور پھر وہ صرف اس وقت بولے جب کہ اس کے پاس بولنے کے لیے کوئی محکم بات ہو، بصورت دیگر اس پر فرض ہے کہ وہ خاموشی کا طریقہ اختیار کرے۔ بولنا اس آدمی کے لیے جائز ہے جو بولنے سے پہلے اس کی تیاری کرے۔ وہ اپنے آپ کو بولنے کا اہل بنائے۔ سنی سنائی باتوں پر رائے دینا اتنا برا ہے کہ حدیث میں اس کو جھوٹ کہا گیا ہے۔ اسی طرح نیت سے تعلق رکھنے والی باتوں کو زیرِ بحث لانا سخت گناہ ہے۔ کیوں کہ اس کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں۔ آزادانہ اظہارِ رائے جس طرح ایک حق ہے اسی طرح وہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ اور وہ یہ کہ کامل واقفیت کے بغیر آدمی کبھی اظہارِ رائے نہ کرے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر اور عمر مکہ اور منی میں قصر کر کے دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ عثمان نے بھی اپنی خلافت کے ابتدائی زمانہ میں ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد عثمان نے قصر نہیں کیا بلکہ چار رکعت پڑھی۔ عبد اللہ بن مسعود کو یہ بات معلوم ہوئی تو انھوں نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا اور اس کو غلط بتایا۔ اس کے بعد وہ اٹھے اور چار رکعت نماز ادا کی۔ ان سے کہا گیا کہ چار رکعت نماز پر آپ نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کہا اور پھر خود بھی آپ نے خلیفہ کی پیروی میں چار رکعت پڑھی۔ انھوں نے جواب دیا کہ خلاف کرنا زیادہ برا ہے ــ (الآثارلابی یوسف، اثر نمبر 147)۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود کی یہ مثال ایک اہم حقیقت کو بتاتی ہے۔ اور وہ ایک فرق ہے جس کو اس طرح کے اختلافی معاملہ میں ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ اختلافی معاملہ میں بولنے کے وقت تو اصل معیار کو سامنے رکھا جائے گا۔ مگر عمل کرنے کے معاملہ میں عملی پہلوؤں کی رعایت کی جائے گی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page