دینِ انسانیت
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
آزادی ہر فرد کا ایک حق ہے۔ مگر ہر حق کے ساتھ کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ اسی طرح آزادی کے حق کے ساتھ بھی کچھ لازمی ذمہ داریاں وابستہ ہیں۔ ان میں سے ایک ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے اس حق کو استعمال کرنے سے پہلے بار بار یہ سوچے کہ اس کا بولنا نتیجہ کے اعتبار سے کیسا ثابت ہوگا وہ تعمیری نتیجہ پیدا کرے گا یا تخریبی نتیجہ۔ اسی طرح یہ بھی ایک ذمہ داری ہے کہ اجتماعی نظام میں اجتماعی فیصلہ کی پیروی کی جائے۔ جس آدمی کے ہاتھ میں اجتماعی معاملہ کا نظم نہ ہو، وہ زبانی طور پر اپنا اختلاف ظاہر کر سکتا ہے، مگر عملی اعتبار سے اس کو وہی کرنا چاہیے جو دوسرے لوگ کر رہے ہیں۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اجتماعی اتحاد ٹوٹ جائے گا، اور اجتماعی اتحاد کا ٹوٹنا تمام برائیوں میں سب سے بڑی برائی ہے۔ حدیث میں ہے کہ: فَعَلَيْكُمْ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3950) عَلَيْكُمْ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ (مسند احمد، حدیث نمبر 18450)۔ یعنی، سوادِ اعظم کی پیروی کرو۔ اس حدیث کا مطلب بھی یہی ہے۔ یعنی جب فتنہ کی حالت ہو اور صورت حال پر تمہارا کنٹرول قائم نہ رہے تو تم قول کی حد تک حکیمانہ انداز میں حق کا اعلان کر سکتے ہو۔ مگر عمل کے معاملہ میں تمہیں مسلمانوں کے سوادِ اعظم کے ساتھ رہنا چاہیے۔ کیوں کہ ایسی حالت میں عملی اختلاف زیادہ بڑی برائی کا سبب بن جائے گا۔ اختلافات کی توجیہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے ۔ کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے۔ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس کے اندر بہت اختلاف پاتے۔(4:82)۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ نے جو دین اسلام بھیجا ہے وہ ایک ایسا دین ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں۔ یہی بات حدیث میں اس طرح کہی گئی ہے کہ میں نے تم کو ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader