اختلافات کی توجیہ
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
روشن دین پر چھوڑا ہے، اس کی راتیں بھی اس کے دنوں کی طرح ہیں: لَقَدْ تَرَکْتُکُمْ عَلَى مِثْلِ الْبَيْضَاءِ، لَيْلُهَا وَنَهَارُهَا سَوَاءُ (سنن ابن ماجه، حدیث نمبر 5)۔ مگر ایک شخص جب قرآن کی تفسیروں اور حدیث کی شرحوں کو پڑھتا ہے۔ جب وہ فقہ اور عقائد کی کتابوں کو دیکھتا ہے تو بظاہر بالکل برعکس تصویر دکھائی دیتی ہے۔ یہاں وہ اتنے زیادہ اختلافات دیکھتا ہے کہ شاید اسلام کی کوئی ایک تعلیم بھی نہیں جس میں علما کے درمیان کثرت سے اختلاف نہ پایا جاتا ہو۔ یہاں دین اسلام بظاہر دین اختلاف معلوم ہونے لگتا ہے۔ ایک دارالعلوم کے شیخ الحدیث نے کہا کہ شوال کے مہینہ میں حدیث کے اسباق کی بسم اللہ ہوتی ہے اور رجب میں اس کی تمت ہوتی ہے۔ ان دس مہینوں میں اسباق کا کوئی دن بھی ایسا نہیں گزرتا جس میں کم از کم بیس مرتبہ یہ نہ کہنا پڑتا ہو کہ اس مسئلہ میں فلاں امام کا یہ مذہب ہے اور فلاں کا یہ مختلف مذہب ہے۔ صحابہ کا یہ مذہب تھا، تابعین میں یہ اختلاف ہے اور یہ کہ : رَأْيُنَا صَوَابٌ وَرَأْيُ غَيْرِنَا خَطَاً ( ہماری رائے درست ہے اور دوسروں کی رائے خطا ہے)۔ ایک بے اختلاف دین با اختلاف دین کیوں بن گیا۔ اور اس معاملہ کی اطمینان بخش توجیہہ کیا ہے۔ اس پر پچھلے ہزار برس کے دوران بہت لکھا گیا ہے اور بہت کچھ کہا گیا ہے ۔ آج بھی اس کے بارے میں کثرت سے مضامین اور کتابیں شائع کی جارہی ہیں۔ یہ سوال ابتدائی طور پر صحابہ کے زمانہ ہی میں موجود تھا۔ تاہم باقاعدہ صورت میں وہ تابعین اور تبع تابعین کے زمانہ میں نمایاں ہوا۔ جب حدیثیں اکٹھا کی گئیں تو معلوم ہوا کہ خود روایات میں کثرت سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اب لوگوں نے یہ سوال کرنا شروع کیا کہ کس روایت کی پیروی کریں اور کس روایت کی پیروی نہ کریں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader