اختلافات کی توجیہ
Urdu book, p. 58
By Maulana Wahiduddin Khan
اس وقت ابتداءً یہ نقطہ نظر اختیار کیا گیا کہ یہ مختلف روایتیں تو خود صحابہ سے مل رہی ہیں۔ اور صحابہ سب کے سب قابلِ تقلید ہیں۔ پھر ہم کیوں کر ایسا کہہ سکتے ہیں کہ اس صحابی کی روایت کو مانو اور اُس صحابی کی روایت کو نہ مانو۔ محمد بن عبدالرحمن الصیر فی کہتے ہیں کہ میں نے احمد بن حنبل سے پوچھا کہ کسی مسئلہ میں اصحابِ رسول مختلف ہوں تو کیا ہمارے لیے جائز ہے کہ ہم غور کر کے یہ فیصلہ کریں کہ ان میں سے درست قول کون سا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ کے اصحاب کے درمیان ایسا غور و فکر کرنا جائز نہیں (لا يَجُوزُ النَّظَرُ بَيْنَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم)۔ الصیر فی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ پھر کس کے قول پر عمل کیا جائے۔ احمد بن حنبل نے کہا کہ ان میں سے جس کی بھی چاہو اتباع کر لو: تُقَلِّدُ أَيَّهُمْ أَحْبَبْتَ (جامع بیان العلم وفضلہ لابن عبد البر: 1705)۔ امام احمد بن حنبل کی یہ بات بجائے خود نہایت درست ہے۔ کیوں کہ ہم کسی صحابی کو صحیح اور کسی صحابی کو غلط نہیں کہہ سکتے۔ ہمارے لیے ہر صحابی قابلِ اتباع ہے۔ تاہم اس جواب میں اس بات کی علمی توجیہ موجود نہیں ہے کہ ایسا مسلک کیوں درست ہے۔ اس کے بعد دوسرا مسلک وہ ہے جس کو فقہاء کی ایک تعداد نے اختیار کیا۔ مثلاً امام مالک سے پوچھا گیا کہ صحابہ کے اختلافات میں کیا کرنا چاہیے۔ انھوں نے جواب دیا کہ ان میں کچھ نادرست ہیں اور کچھ درست ہیں، تو ان پر غور کر کے کسی کو اختیار کرو خطاً وَصَواب فَانْظُرُ في ذلِكَ ( جامع بیان العلم وفضلہ لابن عبد البر: 1694)۔ امام ابو حنیفہ نے اور زیادہ واضح طور پر یہی بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ دونوں میں سے ایک قول خطا ہے۔ اور اس خطا کا گناہ معاف کر دیا گیا ہے : أَحَدُ الْقَوْلَيْنِ خَطَاً وَالْمَأْثُمُ فِيهِ مَوْضُوعُ (جامع بیان العلم وفضلہ لابن عبد البر: 1706)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader