اختلافات کی توجیہ
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ جواب بلاشبہ درست نہیں ہے۔ کیوں کہ مختلف اقوال میں سے ہر قول جب کسی صحابی کی طرف سے ملا ہو تو ہم کو یہ حق نہیں کہ بطور خود ایک کو خطا اور دوسرے کو صواب کہیں ۔ صحابہ کے مختلف اقوال کے سلسلے میں ہم مجبور ہیں کہ ہم ایک کو صواب سمجھیں۔ ان کے درمیان امتیاز قائم کرنا ہمارے لیے اپنی حد سے تجاوز کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ اس معاملہ میں زیادہ گہرائی کے ساتھ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ دین کے دو حصے ہیں۔ ایک اصول کا حصہ، اور دوسرے فروغ اور جزئیات کا حصہ۔ مذکورہ تمام اختلافات فروغ اور جزئیات سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاں تک اصول کا تعلق ہے، ان میں کوئی اختلاف نہیں۔ مثلاً پانچ وقتہ نماز یا نمازوں میں رکعات کی مختلف تعداد کے بارے میں تمام اہل اسلام متفق ہیں۔ البتہ آمین با جہر اور آمین بالسّر جیسے کثیر مسائل ہیں جن میں ان کے یہاں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اس تقسیم کو قرآن کی روشنی میں دیکھا جائے تو فیصلہ بہت آسان ہو جاتا ہے۔ قرآن میں ہے کہ تمام انبیاء کو ایک ہی الدین (42:13) دیا گیا ہے۔ الدین سے مراد دین کے اصولی اور اساسی احکام ہیں۔ یہ اصولی اور اساسی احکام ابدی ہیں اور یکساں طور پر ہر پیغمبر کو دیے جاتے رہے ہیں۔ ان کے معاملہ میں ایک نبی اور دوسرے نبی کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ قرآن کے مطابق، دین کا دوسرا حصہ وہ ہے جس کو شرعۃ اور منہاج (5:48) کہا گیا ہے۔ یہ دوسرا حصہ مختلف پیغمبروں کے یہاں مختلف رہا ہے۔ یہی فرق اسلام میں داخلی طور پر بھی پایا جاتا ہے۔ گویا قرآن اور اسی طرح حدیث کے اتفاقی اجزاء کی حیثیت الدین کی ہے۔ اور اس کے بعد جو اختلافی اجزاء ہیں وہ اس حصہ دین سے متعلق ہیں جن کو قرآن میں شرعۃ اور منہاج کہا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خود شارع کی اپنی سکیم کے مطابق، دین کے ایک حصہ میں تو وحد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader