دینِ انسانیت
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
زیادہ دور تک دیکھنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ ایسا شخص تاریکی میں روشنی کے امکانات کو دریافت کرے گا۔ چنانچہ وہ لوگوں کو عسر میں یسر کی خبر دے گا۔ وہ مسائل کے درمیان مواقع کی نشاندہی کرے گا۔ وہ لوگوں کے اندر امید اور حوصلہ پیدا کرے گا، کیوں کہ وہ بتائے گا کہ تم کس طرح اپنے مائنُس (نہیں) کو دوبارہ پلس ( ہے) میں تبدیل کر سکتے ہو۔ فرقہ بندی مشہور روایت کے مطابق، رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنو اسرائیل کے لوگ بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت کے لوگ تہتر فرقوں میں بٹ جائیں گے۔ سب کے سب آگ میں جائیں گے سو ایک کے (كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلا مِلَّةً وَاحِدَةً)۔ پوچھا گیا کہ اے خدا کے رسولﷺ، یہ ایک کون ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ طریقہ جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2641)۔ علماء اسلام نے ” 72 “ گمراہ فرقوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثلاً سید عبدالقادر جیلانی نے غُنیۃ الطالبین میں اس پر تفصیلی بحث کی ہے اور نام بنام ان کا ذکر کیا ہے ۔ مثلاً خارجیة، شیعہ، معتزلہ، مرجبیہ، مشبیہ، جھمیہ، ضراریہ، کلابیہ، وغیرہ۔ پھر ہر فرقے کے ذیلی فرقے ۔ اس طرح انھوں نے اس تعداد کو بہتر اور تہتر تک پہنچا دیا ہے۔ اگر چہ ان میں سے بیشتر فرقے اب صرف کتابوں میں ہیں، عملی دنیا میں ان کا کہیں وجود نہیں۔ تا ہم ان تاریخی فرقوں کی اہمیت با اعتبار حصر نہیں ہے بلکہ با اعتبار علامت ہے۔ یعنی وہ علامتی طور پر بتاتے ہیں کہ امت میں جب گمراہی آئے گی تو وہ کس طرح اور کس راستہ سے آئے گی ۔ ان فرقوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ تمام گمراہ فرقے اعتقادات میں غیر ضروری خوض

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader