Urdu book · دینِ انسانیت

فرقہ بندی

Urdu book, p. 66

By Maulana Wahiduddin Khan

کے نتیجہ میں پیدا ہوئے۔ اور یہی ان کی اصل گمراہی تھی۔ غور و فکر اسلام میں مطلوب ہے۔ حتی کہ قرآن کے نزول کا مقصد ہی تدبر بتایا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صحیح تدبر آدمی کی معرفت حق میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس، منحرفانہ تدبر ذہنی انتشار پیدا کرتا ہے، اور آخر کار گمراہی کے گڑھے میں گرا دیتا ہے۔ عقائد کا تعلق امور غیب سے ہے۔ غیب کے بارے میں آدمی براہ راست علم حاصل نہیں کر سکتا، اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس معاملہ میں اتنے ہی پر قناعت کیا جائے جو بتا دیا گیا ہے: أُبْهِمُوا اما أُبْهِمْه الله (الأصل لمحمد بن الحسن الشيبانی، جلد 10، صفحه (182) اور نامعلوم کے دائرہ میں خیال آرائی کی کوشش نہ کی جائے۔ یہی اس معاملہ میں اصحاب رسول کا طریقہ تھا۔ جو آدمی اپنی غور و فکر کو معلوم کے دائرہ میں استعمال کرے وہ ما انا عليه واصحابی کا مصداق ہے، اور جو آدمی غیر معلوم یا ممنوعہ دائرہ میں خوض کرنے لگے وہ ہدایت کے دائرہ سے نکل گیا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ : وہ اللہ ہے جس نے تمہارے اوپر کتاب اتاری۔ اس میں کچھ آیتیں محکم ہیں، وہ کتاب کی اصل ہیں۔ اور دوسری آیتیں متشابہ ہیں۔ پس جن کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں، فتنہ کی تلاش میں اور اس کی تاویل کی تلاش میں۔ حالاں کہ ان کی تاویل اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور جو لوگ پختہ علم والے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔ اور نصیحت وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں (3:7)۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ غلط قسم کا غور و فکر کیا ہے۔ اور وہ کون سا غور و فکر ہے جو آدمی کو ہدایت کی طرف لے جانے والا ہے۔ اس آیت میں متشابہات سے مراد متماثلات ہے۔ یعنی تمثیلی اسلوب کلام۔ وہ باتیں جن کا تعلق غیبی حقیقتوں سے ہے ان کو قرآن میں تمثیل کی زبان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page