Urdu book · دینِ انسانیت

اچھا گمان

Urdu book, p. 81

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَکْذَبُ الْحَدِیثِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2563)۔ یعنی، تم لوگ بدگمانی سے بچو، کیوں کہ بدگمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے۔ اس طرح کی بہت سی حدیثیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بارے میں اسلام کا حکم اور اس کا تقاضا کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے بارے میں اپنے دل کو صاف رکھیں ۔ اگر کسی کے بارے میں کوئی غلط بات کہی جائے تو محض سننے کی بنیاد پر ہرگز اس کو نہ مانیں ۔ یا تو اس کو خوش گمانی پر محمول کرتے ہوئے اپنے ذہن سے نکال دیں۔ اور اگر کسی وجہ سے اس کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنا ضروری ہو تو معاملہ کی پوری تحقیق کریں۔ مکمل تحقیق کے بغیر نہ کوئی رائے بنائیں اور نہ اس کی بنیاد پر کوئی اقدام کریں۔ اسلام کا مطلوب انسان وہ ہے جو دوسروں کے بارے میں اچھی رائے رکھے۔ جس کا سینہ دوسروں کے بارے میں خوش گمانیوں سے بھرا ہوا ہو۔ تواضع اسلام کی ایک تعلیم تواضع ہے۔ قرآن میں سورہ لقمان میں فرمایا کہ لوگوں سے بے رخی نہ کرو اور زمین میں اکڑ کر نہ چلو۔ بے شک اللہ کسی اکڑنے والے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو اور اپنی آواز کو پست رکھو۔ بے شک سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے (19:18-31)۔ انسان کا حسن اکڑنے میں نہیں ہے بلکہ جھکنے میں ہے۔ انسان کو فخر زیب نہیں دیتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page