Urdu book · دینِ انسانیت

تواضع

Urdu book, p. 82

By Maulana Wahiduddin Khan

بلکہ تواضع کی روش اسے زیب دیتی ہے۔ انسان کا کمال یہ نہیں ہے کہ وہ شور والی آوازیں نکالے، انسان کا کمال یہ ہے کہ اس کی بول میں نرمی کی صفت پیدا ہو جائے ۔ اکڑ کا انداز غیر سنجیدگی کی علامت ہے۔ اسلام آدمی کو آخری حد تک سنجیدہ بناتا ہے۔ اس لیے ایک شخص جب پورے معنی میں مسلم بنتا ہے تو وہ پورے معنی میں متواضع بھی بن جاتا ہے۔ تواضع خلاصہ انسانیت ہے، اور اسی کے ساتھ وہ خلاصہ اسلام بھی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوا حَتَّى لَا يَبْغِيَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ، وَلَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4895)۔ یعنی، اللہ تعالیٰ نے میری طرف یہ وحی بھیجی کہ تم لوگ تواضع کی روش اختیار کرو، یہاں تک کہ کوئی شخص کسی کے اوپر درازی نہ کرے، کوئی شخص کسی کے اوپر فخر نہ کرے۔ اسلام یہ تصور دیتا ہے کہ بڑا صرف ایک خدا ہے، اس کے سوا جو انسان ہیں وہ سب کے سب یکساں طور پر اس کے بندے ہیں۔ یہ عقیدہ جب صحیح طور پر دلوں میں بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے آپ تواضع کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ خدا کو اپنا بڑا بنانے والے انسان کے اندر جو صفت پیدا ہوتی ہے، اس کا دوسرا نام تواضع ہے۔ تواضع انسانیت کا زیور ہے۔ جس سماج کے افراد میں تواضع کی صفت ہو، اس سماج میں دوسری تمام خوبیاں اپنے آپ پیدا ہو جائیں گی۔ تواضع والا آدمی اپنی فطرت پر ہوتا ہے اور غیر متواضع آدمی اپنی فطرت سے ہٹ جاتا ہے، تواضع آدمی کو حقیقت پسند بناتی ہے۔ جس آدمی کے اندر تواضع نہ ہو اس کے اندر حقیقت پسندی بھی نہیں ہوگی۔ وہ بظاہر انسان ہوگا مگر حقیقتاً غیر انسان۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page