نرمی کا انداز
Urdu book, p. 83
By Maulana Wahiduddin Khan
نرمی کا انداز اسلام کی تعلیمات کو اپنانے کے بعد آدمی کے اندر جو مزاج بنتا ہے وہ نرمی اور رفق کا مزاج ہے۔ اسلام میں وہ اس حقیقت کو دریافت کرتا ہے کہ خدا بڑا ہے (اللہ اکبر) یہ دریافت اس کو بتاتی ہے کہ بڑائی تو صرف خدا کے لیے ہے، میرے لیے بڑائی نہیں۔ اس طرح اپنے آپ اس کے اندر انکسار اور فروتنی کا مزاج پیدا ہو جاتا ہے۔ تاہم نرمی کے سلوک پر قائم رہنے کی لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی کے اندر بے پناہ حد تک برداشت کا مزاج ہو۔ موجودہ دنیا میں بار بار دوسروں کی طرف سے ناخوش گواری کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس لیے نرمی کے سلوک پر وہی شخص قائم رہ سکتا ہے جو ردعمل کی نفسیات سے اپنے آپ کو بچا سکے۔ اسی لیے قرآن میں خدا پرست انسان کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ ـــــ غصہ کو پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے: وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ (3:134)۔ بخاری اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نرم ہے اور ہر معاملہ میں نرمی کو پسند کرتا ہے: اِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ (صحيح البخاری، حدیث نمبر 6927)۔ اسی طرح آپ نے فرمایا: اِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ، وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ، وَمَا لَا يُعْطِي عَلَى مَا سِوَاهُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2593)۔ یعنی، اللہ نرم ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے۔ وہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا اور نہ کسی دوسری چیز پر۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ: مَنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ يُحْرَمِ الْخَيْرَ كُلَّهُ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4809)۔ یعنی، جو شخص نرمی سے محروم ہو وہ تمام بھلائیوں سے محروم ہو جائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader