نرمی کا انداز
Urdu book, p. 84
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر آپ لوگوں سے معاملہ کرتے ہوئے اکڑے سے کام لیں تو آپ لوگوں کی انا کو جگائیں گے۔ اس طرح مسئلہ بڑھے گا۔ پہلے اگر آپ کو کڑوے بول سے سابقہ پیش آیا تھا تو آپ لوگوں کے پتھر کو سہنے کے لیے مجبور کر دیے جائیں گے۔ اس کے بجائے اگر آپ معاملات میں نرمی والا طریقہ اختیار کریں تو آپ کا یہ سلوک لوگوں کے ضمیر کو جگائے گا۔ اب معاملہ برعکس ہوگا۔ پہلے اگر کوئی شخص آپ کا مخالف بنا ہوا تھا تو اب وہ مخالفت کو بھول کر آپ کا قریبی دوست بن جائے گا۔ نرمی کامیاب انسان کی صفت ہے اور اکڑنا کامیاب انسان کی صفت۔ قناعت انسان کی ایک اہم اخلاقی صفت وہ ہے جس کو قناعت کہا جاتا ہے۔ بہتر سماج کی تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ افراد کے اندر قناعت کا مزاج موجود ہو۔ جس سماج کے افراد میں قناعت کا مزاج پایا جائے اس سماج میں ایک دوسرے کے درمیان محبت کی فضا ہوگی۔ اور جس سماج کے افراد میں یہ مزاج نہ پایا جائے وہ یقینی طور پر باہمی محبت کی فضا سے خالی ہوگا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص نے فلاح پائی جس نے اسلام کو قبول کیا اور جس کو بقدر ضرورت رزق دیا گیا۔ اور وہ اللہ کے دیے پر قانع ہو گیا: قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ، وَرُزِقَ كَفَافاً، وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1054)۔ موجودہ دنیا میں کسی انسان کی سب سے بڑی خوش نصیبی یہ ہے کہ وہ اپنے رب کا شاکر بندہ بن کر رہ سکے، اور حقیقی معنوں میں شاکر بندہ وہی بن سکتا ہے جس میں قناعت کا مزاج پایا جائے۔ چنانچہ حدیث میں یہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وَكُنْ قَنِعَا، تَكُنْ أَشْكَرَ النَّاسِ (سنن ابن ماجه، حديث نمبر 4217)۔ یعنی تم قانع بن جاؤ اور پھر تم سب سے زیادہ شکر کرنے والے بن جاؤ گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader