Urdu book · دینِ انسانیت

قناعت

Urdu book, p. 85

By Maulana Wahiduddin Khan

قناعت کی روشن اختیار کرنے سے آدمی کو قلبی سکون حاصل ہوتا ہے۔ اور قناعت نہ کرنے سے حرص کا مزاج بنتا ہے۔ اور جس آدمی کے اندر حرص کا مزاج آجائے وہ کبھی اور کسی حال میں مطمئن نہیں ہو سکتا۔ وہ ہر حال میں کمی کا شکوہ کرتا رہتا ہے۔ قناعت آدمی کو ذہنی اطمینان دیتی ہے اور حرص سے آدمی کے اندر ذہنی پراگندگی پیدا ہوتی ہے۔ قناعت فکری بلندی کی طرف لے جاتی ہے اور حرص فکری پستی کی طرف۔ قناعت آدمی کو دوسروں سے محبت کرنے والا بناتی ہے اور حرص دوسروں سے نفرت کرنے والا۔ قناعت روحانی ترقی کا ذریعہ ہے اور حرص روحانی پستی کا ذریعہ۔ قناعت کا مزاج آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ ادنیٰ باتوں سے اوپر اٹھ کر اعلیٰ حقیقتوں میں جی سکے۔ وہ سادہ زندگی اور اونچی سوچ والا انسان بن جائے۔ ایثار قرآن میں اہل ایمان کی جو صفات بتائی گئی ہیں ان میں سے ایک صفت دوسرے کے مفاد کے لیے اپنے مفاد کو قربان کرنا ہے۔ یعنی اپنی ضرورت پر دوسرے کی ضرورت کو مقدم سمجھنا۔ خود زحمت اٹھا کر دوسرے کی مدد کرنا۔ اپنی ذات پر دوسرے کی ذات کو ترجیح دینا۔ اس انسانی صفت کے لیے قرآنی لفظ ایثار ہے۔ (Preference) ہجرت کے بعد اچانک بہت سے لوگ مکہ سے مدینہ آگئے۔ یہ لوگ بظاہر مدینہ والوں کے اوپر بوجھ تھے۔ کیوں کہ مہاجرین اس وقت بالکل خالی ہاتھ تھے۔ اور مقامی باشندوں (انصار) کے پاس مکان، زمین، باغ وغیرہ تھے۔ مگر اہل مدینہ نے انتہائی خوش دلی کے ساتھ ان نو واردین کا استقبال کیا جو بظاہر ان کی معیشت پر بوجھ بن کر آئے تھے۔ اس کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن میں فرمایا:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page