دینِ انسانیت
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
اور جو لوگ پہلے سے مدینہ میں قرار پکڑے ہوئے ہیں اور ایمان استوار کیے ہوئے ہیں، جو ان کے پاس ہجرت کر کے آتا ہے اس سے وہ محبت کرتے ہیں اور وہ اپنے دلوں میں اس سے تنگی نہیں پاتے جو مہاجرین کو دیا جاتا ہے۔ اور وہ ان کو اپنے اوپر مقدم رکھتے ہیں (ایثار کا معاملہ کرتے ہیں) اگرچہ ان کے اوپر فاقہ ہو۔ اور جو اپنے جی کے لالچ سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں (59:9)۔ یہ ایثار ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو ہر روز ہر آدمی کے ساتھ پیش آتا ہے۔ ہر صبح و شام یہ موقع سامنے آتا ہے جبکہ ایک آدمی محسوس کرتا ہے کہ اسے اپنے آپ کو پیچھے کر کے دوسرے کو آگے بڑھنے کا راستہ دینا چاہیے۔ خود تکلیف اٹھا کر دوسرے کو آرام پہنچانا چاہیے۔ اپنے اخراجات میں کمی کر کے دوسرے کی مدد کرنا چاہیے۔ اپنے وقت کا ایک حصہ نکال کر اس کو دوسرے کی خدمت میں لگانا چاہیے۔ اپنی ذات کو حذف کر کے دوسرے کو اوپر اٹھانا چاہیے۔ خود چپ ہو کر دوسرے کو بولنے کا موقع دینا چاہیے۔ سڑک پر اپنی گاڑی کنارے کر کے دوسرے کو گنجائش دینا چاہیے کہ وہ اپنی منزل کی طرف جاسکے۔ اسی ذاتی قربانی (self-sacrifice) کا نام ایثار ہے۔ یہ ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے۔ قرآن کے مطابق ، وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں جن کے اندر یہ انسانی صفت پائی جاتی ہو۔ مہربانی کا سلوک قرآن میں خدا کی صفت الرحمٰن اور الرحیم بتائی گئی ہے۔ یعنی بہت زیادہ مہربان، نہایت رحم والا۔ اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمتہ للعالمین (21:107) کہا گیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader