مہربانی کا سلوک
Urdu book, p. 87
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ یعنی ، آپ ساری دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ آپ کی سب سے زیادہ نمایاں صفت آپ کا آفاقی رحمت کا حامل ہونا ہے۔ قرآن میں انسان کو یہ خدائی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کریں اور ایک دوسرے کو ہمدردی کی نصیحت کریں: وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ (90:17)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان دوسرے انسان کے ساتھ شفقت اور ہمدردی اور مہربانی کا سلوک کرے، حتی کہ اگر دوسروں کی طرف سے زیادتی کا تجربہ بھی اس کو برداشت کرتے ہوئے اپنا ہمدردانہ رویہ بدستور پوری طرح باقی رکھے۔ القرطبی نے وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خلقِ خدا کے ساتھ رحمت کا معاملہ کیا جائے : بِالرَّحْمَةِ عَلَى الْخَلْقِ ( الجامع لأحكام القرآن، جلد 20، صفحہ 71)۔ اس سلسلہ میں کثرت سے روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4941)۔ یعنی، رحم کرنے والوں پر خدائے رحمن رحم فرمائے گا۔ اسی طرح آپ نے فرمایا: اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 1924)۔ یعنی تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تمہارے اوپر رحم کرے گا۔ ایک اور حدیث کے الفاظ یہ ہیں: إِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ۔ یعنی اللہ اپنے بندوں میں ان پر رحم کرے گا جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1284) اسلام کی یہ تعلیم اتنی زیادہ پھیلی کہ وہ پوری دنیا کے مسلم لٹریچر میں شامل ہو گئی۔ ہر زبان میں اس کی گونج سنائی دینے لگی۔ ہندوستان کے ایک مسلم شاعر نے کہا:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader