دینِ انسانیت
Urdu book, p. 93
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے برعکس، جس آدمی کا حال یہ ہو کہ وہ بولے تو جھوٹ بولے، اس کی اندرونی شخصیت گندی رہتی ہے۔ اس کے اندر پاک صاف روح کی پرورش نہیں ہوتی۔ وہ برائیوں میں لت پت ہوتا چلا جاتا ہے۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ: أَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر3131)۔ یعنی، سب سے زیادہ اچھی بات میرے نزدیک وہ ہے جو سچی بات ہو۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الْأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 1209)۔ یعنی، سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن نبیوں کے ساتھ ہوگا۔ حق رسانی ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان اور حضرت ابوالدرداء کے درمیان مواخات قائم فرمائی تھی۔ حضرت سلمان اور حضرت ابوالدرداء کا جب ساتھ ہوا تو حضرت سلمان نے دیکھا کہ ابوالدرداء دن کو روزہ رکھتے ہیں اور رات کو کثرت سے نمازیں پڑھتے ہیں۔ دوسری انسانی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے ان کے پاس زیادہ وقت باقی نہیں رہتا۔ حضرت سلمان نے حضرت ابوالدرداء کو اس سے منع کیا۔ انھوں نے کہا کہ خدا کے حقوق کے ساتھ انسانوں کے حقوق بھی تمہارے اوپر ہیں۔ تم کو چاہیے کہ تم ہر حق دار کا حق ادا کرو (فَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ سلمان نے ٹھیک کہا (صدق سلمان) صحیح البخاری حدیث نمبر 1968۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ سلمان فقیہہ ہیں (علل الدارقطنی، جلد 8، صفحہ 128)۔ سلمان کو علم میں حصہ ملا ہے (حلیۃ الاولیاء للافہانی، جلد 1، صفحہ 188)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader