Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 94

By Maulana Wahiduddin Khan

حق داروں کو ان کا حق پہنچانے کا یہ معاملہ اسلام میں اتنا سنگین ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ اگر تم نے دنیا میں حق دار کو اس کا حق نہ دیا تو قیامت کے دن تمہیں ان کا حق ادا کرنا ہو گا۔ لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2582) یعنی، موجودہ امتحان کی دنیا میں جو آدمی حقوق کی ادائیگی میں ناکام رہے گا وہ آنے والے فیصلے کے دن شدید ترانداز میں اس کا بھگتان ادا کرنے پر مجبور ہوگا۔ حقوق کی ادائیگی کا یہ معاملہ کسی ایک چیز سے متعلق نہیں ہے بلکہ تمام چیزوں سے متعلق ہے۔ مثلاً گھر کا حق یہ ہے کہ آپ اپنے بیوی بچوں کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔ پڑوسی کا حق یہ ہے کہ آپ ان کے لیے کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہ پیدا کریں۔ راستہ کا حق یہ ہے کہ آپ کوئی ایسا فعل نہ کریں جس سے دوسرے راستہ چلنے والوں کو تکلیف پہنچے۔ سماج کا حق یہ ہے کہ آپ تمام لوگوں کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کریں۔ قوم کا حق یہ ہے کہ آپ اس کی صلاح وفلاح کو اپنی ذمہ داری سمجھیں اور کبھی اس سے غافل نہ ہوں۔ حقوق کی ادائیگی ایک مکمل نظریہ ہے اور اس کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ غصہ نہیں قرآن میں مومن کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ جب ان کو غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں : وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ (42:37)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن کو جب دوسرے شخص سے ایسا سلوک ملتا ہے جو اسے غصہ دلا دے تو وہ غصہ کا جواب غصہ سے نہیں دیتا۔ بلکہ وہ غصہ کا جواب معافی سے دیتا ہے۔ وہ ردعمل کے بجائے درگزر کا طریقہ اختیار کر کے پہلے ہی مرحلہ میں اس کو ختم کر دیتا ہے۔ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page