Urdu book · دینِ انسانیت

غصہ نہیں

Urdu book, p. 95

By Maulana Wahiduddin Khan

فریق ثانی سے الجھنے کے بجائے خود اپنی ذات میں مشغول ہو جاتا ہے۔ ایک شخص پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ اے خدا کے رسول، مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس کو میں اپنی زندگی بنا لوں۔ اور وہ بات مختصر ہوتا کہ میں اسے بھول نہ جاؤں۔ آپ نے جواب دیا: لَا تَغْضَبْ۔ یعنی، غصہ نہ کر(موطاً الامام مالک، حدیث نمبر 1891)۔ غصہ کبھی خلا میں نہیں آتا۔ غصہ ہمیشہ اس وقت آتا ہے جب کہ کوئی شخص آپ سے غصہ دلانے والی بات کرے۔ جب کوئی شخص آپ کے ساتھ برا سلوک کرے۔ جب کسی سے آپ کو ایسی تکلیف پہنچے جو آپ کی انا کو بھڑکانے والی ہو۔ غصہ ایک جوابی عمل ہے۔ وہ ہمیشہ اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب کسی سے آپ کو کوئی ناپسندیدہ تجربہ پیش آیا ہو۔ ایسے موقع پر ایک طریقہ ردعمل کا ہوتا ہے، یعنی جو کچھ دوسرے شخص نے کیا ہے وہی خود بھی کرنا۔ مگر یہ اسلام کی تعلیم نہیں۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ دوسرا شخص آپ کو غصہ دلائے تب بھی آپ غصہ نہ ہوں۔ دوسرا شخص اشتعال انگیزی کرے تب بھی آپ اپنے کو اشتعل ہونے سے بچا لیں۔ مومن کو یقین ہوتا ہے کہ لوگوں کی تکلیفوں پر اگر وہ صبر کر لے تو خدا کے یہاں اس کو زیادہ بہتر اجر ملے گا۔ یہ غصہ، اس کے سینہ میں ایک ایسا اٹھاہ سکون پیدا کر دیتا ہے جو کسی بھی مخالفانہ بات سے برہم نہ ہو۔ وہ عین اپنے ایمانی مزاج کے تحت غصہ کو معافی میں بدل دیتا ہے۔ وہ اشتعال انگیزی کو اعراض کے خانہ میں ڈال دیتا ہے۔ وہ انا کو بھڑکانے والی بات سے برعکس طور پر تواضع اور انسانیت کی غذا لے لیتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page