امانت اور عہد
Urdu book, p. 96
By Maulana Wahiduddin Khan
امانت اور عہد قرآن میں اہل حق کی ایک پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ وہ اپنی امانتوں کا اور اپنے عہد کا پورا خیال کرنے والے ہوتے ہیں : وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ (23:8)۔ مولاناشبیر احمد عثمانی (1849-1987) نے اس کی مختصر اور جامع تفسیر ان الفاظ میں کی ہے: یعنی وہ امانت اور قول و قرار کی حفاظت کرتے ہیں خیانت اور بد عهدی نہیں کرتے، نہ اللہ کے معاملہ میں اور نہ بندوں کے معاملہ میں (صفحه 443)۔ ہر انسان کے پاس جو کچھ ہے وہ سب کا سب امانت ہے، وہ یا تو خدا کی دی ہوئی امانت ہے یا بندوں کی دی ہوئی امانت۔ اسی طرح ہر انسان عہد اور قرار میں بندھا ہوا ہے۔ کچھ عہد ایسے ہیں جو اس نے لفظی صورت میں کر رکھے ہیں، اور کچھ عہد ایسے ہیں جو الفاظ بولے بغیر اپنے آپ اس کے اوپر قائم ہوتے ہیں۔ ان تمام قسم کی امانتوں اور ان تمام قسم کے عہدوں کو اسے پورا کرنا ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ انسانیت کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ وہ اللہ کے نزدیک اپنے آپ کو مجرم ثابت کر رہا ہے۔ آدمی کا جسم اور اس کا قلب و دماغ خدا کی امانت ہے۔ اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس پورے وجود کو صرف اسی حد کے اندر استعمال کرے جو خدا نے اس کے لیے مقرر کر دی ہے۔ اس کا ہاتھ اور پاؤں انصاف کے لیے اٹھے مگر وہ ظلم کے لیے نہ اٹھے۔ اس کا ذہن خیر خواہی کی بات سوچے مگر وہ بد خواہی کی بات کبھی نہ سوچے ۔ اسی طرح انسانوں کی جو امانتیں اس کے پاس ہیں، خواہ وہ لکھی ہوئی ہوں یا بغیر لکھی ہوئی، وہ ان کو پوری طرح امانت داروں کو ادا کرے ۔ وہ دوسرے کی چیز کو کبھی اپنی چیز نہ سمجھے۔ اسی طرح ہر آدمی ایک طرف خدا اور دوسری طرف بندوں کے عہد میں بندھا ہوا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader