دینِ انسانیت
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کے مطابق، ایک خدا کا فطری عہد ہے جس میں ہر ایک انسان پوری طرح شامل ہے۔ دوسرا ایمانی عہد ہے، اس میں وہ لوگ شامل ہیں جو خدا پر باقاعدہ ایمان لائیں۔ اور شعوری طور پر خدا کے عہد میں بندھ جائیں۔ اس کے بعد بندوں کے عہد کا معاملہ ہے۔ کچھ الفاظ میں لکھے ہوئے عہد ہیں، اور کچھ وہ ہیں جو کسی خاندان یا سماج یاریاست کا فرد ہونے کی حیثیت سے آدمی کے اوپر اپنے آپ قائم ہوتے ہیں۔ ان تمام عہدوں اور ذمہ داریوں کو پورا کرنا آدمی کا فطری فرض بھی ہے اور شرعی فرض بھی۔ پاکی اور صفائی پاک اور صاف ستھرا رہنے کو اسلام میں بہت پسند کیا گیا ہے۔ قرآن میں ہے کہ: اِنَّ اللّٰہَ يُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ (2:222)۔ یعنی، اللہ محبوب رکھتا ہے توبہ کرنے والوں کو اور اللہ محبوب رکھتا ہے پاک رہنے والوں کو۔ آدمی جب غلطی کرنے کے بعد شرمندہ ہوتا ہے اور دوبارہ سچائی کی طرف پلٹ آتا ہے تو اس عمل کو توبہ کہا جاتا ہے۔ توبہ کا یہ عمل آدمی کے اندرون کو پاک کر دیتا ہے۔ اسی طرح پانی باہر کی گندگی کو پاک کرنے کا ذریعہ ہے۔ توبہ کے ذریعہ آدمی اپنی روح کو پاک کرتا ہے اور پانی کے ذریعہ اپنے جسم کو۔ اور دونوں ہی چیزوں کی اسلام میں بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ حدیث میں ہے کہ: اَلطُّھُوْرُ نِصْفُ الْإِيْمَانِ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3519)۔ یعنی، پاکیزگی آدھا ایمان ہے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اِنَّ اللّٰہَ نَظِیْفٌ يُحِبُّ النَّظَافَۃَ (سنن الترمذی، حدیث نمبر (2799)۔ یعنی، اللہ نظیف ہے اور نظافت کو پسند کرتا ہے۔ ابن ماجہ، کتاب الطھارة میں ایک مستقل باب ہے جس کا عنوان ہے: باب ثواب الطھور (پاکی کے ثواب کا باب)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader