سنت رسول
Urdu book, p. 102
By Maulana Wahiduddin Khan
آخرت کی پکڑا کا اندیشہ ہوا اور اس بتا پر آپ نے اس کو نہیں مارا۔ گویا ایک سنت ہے ، دانت صاف کرنے کے لیے مسواک کو استعمال کرنا ۔ دوسری سنت ہے ، اللہ کے ڈر کا ذہن پر اتنا غلبہ ہونا کہ آدمی شکایت کے باوجود اور قابو رکھنے کے باوجود دوسرے کو تکلیف پہنچانے سے رک جائے ۔ وہ مسواک جیسی معمولی چیز سے بھی کسی کو نہ مارے ۔ مسلمانوں نے پہلی سنت کو دوسری سنت سے الگ کر دیا۔ انھوں نے پہلی سنت کو لیا اور دوسری سنت کو چھوڑ دیا ۔ آج مسلمانوں کے اندر کروڑوں افراد ہیں جو مسواک کی سنت پر عمل کرتے ہیں مگر شکایتوں اور ناخوش گواریوں کو برداشت کرنا اور قدرت رکھتے ہوئے دوسرے کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنا ، یہ دوسری سنت اتنی کمیاب ہے کہ مشکل ہی سے چند ایسے افراد مل سکتے ہیں جو واقعی اس سنت کا اہتمام کرتے ہوں ۔ قرآن میں مختلف الفاظ میں بتکرار یہ حکم دیا گیا ہے کہ رسول کی سنت کو اختیار کرو ۔ مگر اتباع سنت کے نام پر ہمارے یہاں جن چیزوں کا زبردست اہتمام ہوتا ہے ان کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں ملتا ۔ البتہ دوسری قسم کی سنت کا ذکر قرآن میں کثرت سے ہے اور یہ دوسری سنتیں وہ ہی ہیں جن کو مسلمانوں نے اپنے اتباع سنت کی فہرست سے خارج کر رکھا ہے۔ یہاں ایک مثال لیجیے ۔ سورہ احزاب قرآن کی ۳۳ ویں سورہ ہے۔ اس سورہ کے ایک حصہ میں غزوہ احزاب پر تبصرہ ہے جو ۷ھ ھ میں پیش آیا ۔ اس موقع پر عرب کے مشرکین نے تقریباً ۱۲ ہزار کی تعداد میں اکٹھا ہوکر مدینہ پر چڑھائی کی تھی ۔ اس موقع پر اگر چہ باقاعدہ لڑائی نہیں ہوئی تاہم وہ لوگ تقریباً ایک ماہ تک مدینہ کا محاصرہ کیے رہے ۔ اس محاصرہ کے دوران بڑے سخت حالات پیش آئے ۔ چنانچہ خود قرآن میں اس کی بابت یہ الفاظ آئے ہیں کہ ــــ جب دشمن اوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے ۔ جب دہشت سے آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منہ کو آگئے اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کی بدگمانیاں کرنے لگے ۔ اس وقت ایمان والے سخت آزمائش میں ڈالے گیے اور بری طرح ہلا مارے گیے ( ۱۱- ۱۰) اس نازک موقع پر کمزور مسلمانوں سے بہت سی کمزوریاں ظاہر ہوئیں ۔ وہ پوری طرح صبر واستقامت کا ثبوت نہ دے سکے ۔ اس سورہ میں ایسے لوگوں پر تبصرہ کیا گیا ہے ۔ اس سلسلہ میں ارشاد ہوا ہے : لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة لمن كان يرجو الله واليوم الآخر وذكر الله

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader