سنت رسول
Urdu book, p. 103
By Maulana Wahiduddin Khan
کثیرا (بے شک تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے ، اس شخص کے لیے جو اللہ کا اور آخرت کے دن کا امید وار ہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرے ۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ محاصرۂ احزاب کے سخت حالات جس طرح عام مسلمانوں پر پیش آئے اسی طرح وہ رسول پر بھی پیش آئے بلکہ رسول پر زیادہ سخت انداز میں پیش آئے ۔ کیوں کہ دشمنوں کا اصل نشانہ تو آپ ہی تھے ۔ مگر رسول کا حال یہ رہا کہ وہ پورے صبر اور استقامت کے ساتھ حالات کے مقابلہ میں جمے رہے ۔ انھوں نے ہر تلخی اور شدت کو اللہ کی خاطر برداشت کیا۔ یہ کردار جس کا اعلیٰ نمونہ رسول نے پیش کیا ، وہی تمام مسلمانوں کو بھی اپنی زندگی میں اپنانا چاہیے تھا ، رسول کی اسی سنت پر تمام مسلمانوں کو چلنا چاہیے تھا ۔ گویا اس آیت میں جس سنتِ رسول کا ذکر ہے وہ صبر کی سنت ہے ۔ یعنی دین کی راہ میں تلخیوں کو برداشت کرنا ۔ نا خوش گواریوں کے باوجود دین کے طریقے پر جھے رہنا ۔ مگر آج کیا حال ہے ۔ آج آپ سنت کے تذکرہ میں سنت صبر یا سنت برداشت کا لفظ بولیں ، تو سننے والوں کو بڑا عجیب معلوم ہو گا ۔ ان کو یقین ہی نہ آئے گا کہ یہ بھی کوئی سنت ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غلط رواج کے نتیجہ میں بس کچھ خاص چیزوں کو سنت سمجھ لیا گیا ہے ۔ مثلاً داڑھی ، مسواک ، دائیں ہاتھ سے پانی پینا ، مسجد میں داخل ہوتے ہوئے دایاں پاؤں رکھنا اور نکلتے ہوئے بایاں پاؤں پہلے نکالنا ، وعیرہ سنت کے نام سے موجودہ زمانہ میں لوگ بس اسی قسم کی کچھ چیزوں کو جانتے ہیں ۔ اور ان چیزوں کا پورا اہتمام کرتے ہیں ۔ مگر دوسری چیزیں سنتِ رسول کی حیثیت سے ان کے ذہن کا جزر نہیں بنیں ۔ اس لیے اتباع سنت کے تحت وہ ان کو اختیار کرنا بھی ضروری نہیں سمجھتے ۔ آج امت میں بے شمار لوگ ہیں جو اتباع سنت کا باقاعدہ اہتمام کرتے ہیں ۔ مگر اتباع سنت کے نام سے عام طور پر جن چیزوں کا اہتمام کیا جاتا ہے وہ دین کے کچھ ضمنی اور جزئی آداب ہیں ۔ ان کے علاوہ دین میں جو اصل اہمیت کی چیزیں ہیں ، جو دین میں رئیسی اور مرکزی حیثیت رکھتی ہیں ان کو شعوری یا غیر شعوری طور پر سنت سے خارج سمجھ لیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اتباع سنت کے باوجود اتباع سنت کے فوائد حاصل نہیں ہوتے ۔ یہاں میں ایک ذاتی تجربہ بیان کروں گا جس سے سنتوں میں اس تفریق کی بخوبی وضاحت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader