سنت رسول
Urdu book, p. 104
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوتی ہے ۔ ماہنامہ الرسالہ کے لیے ہم کو ایک مزید کاتب کی ضرورت تھی۔ اس سلسلے میں ایک صاحب بلائے گئے۔ انھوں نے کہا کہ میں کام لے کر جاؤں گا اور گھر پر لکھ کر دیتا رہوں گا۔ چنانچہ انھیں چند مضامین دیئے گئے ۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ پندرہ دن میں یہ مضامین لکھ کر دے جائیں گے ۔ کاتب صاحب جس وقت دفتر میں تشریف لائے وہ کھانے کا وقت تھا۔ چنانچہ ان کے لیے کھانا منگایا گیا۔ کھانا میز پر رکھ دیا گیا اور ان سے درخواست کی گئی کہ کھانا تناول فرمائیں۔ مگر میں نے دیکھا کہ وہ کچھ تتردد اور پریشانی میں پڑ گئے ہیں ۔ پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ میز پر کھانا خلاف سنت ہے اس لیے وہ کھانے سے ہچکچار ہے ہیں ۔ اس کے بعد ایک چٹائی منگائی گئی ۔ چٹائی بچھا کر کھانا فرش پر رکھا گیا ۔ اس کے بعد انھوں نے کھانا تناول فرمایا ۔ کھانے سے فراغت کے بعد وہ الرسالہ کے مضامین لے کر واپس گیے ۔ ہم کو امید تھی کہ حسب وعدہ وہ دو ہفتہ میں مضامین لکھ کر پہنچادیں گے مگر دو ہفتہ گزر گیا اور وہ واپس نہیں آئے ۔ ہم انتظار میں رہے یہاں تک کہ دو مہینہ ہو گیا ۔ اس کے بعد ان کی تلاش کے لیے ایک آدمی بھیجا گیا ۔ بڑی مشکل سے اس گلی تک رسائی ہوئی جہاں وہ ایک مشترک کمرے میں رہتے تھے ۔ ان کے کمرہ کے ساتھی نے بتایا کہ وہ یہاں موجود نہیں ہیں ۔ ساتھی نے مزید بتایا کہ وہ اپنے وطن گیے ہوئے تھے جو ایک دیہات میں واقع ہے ۔ وہاں ایک خاندانی جھگڑے میں ان کی آپس میں لڑائی ہوگئی اس میں وہ کافی زخمی ہونے اور ہسپتال میں پڑے ہونے ہیں ۔ اس کے بعد ان کے وطن کے پتے پر خط لکھا گیا ۔ جواب کے ذریعہ معلوم ہوا کہ مذکورہ رپورٹ صحیح تھی ۔ بالآخر کئی مہینہ کے بعد ہمارا آدمی ان کے گھر پر ان سے ملاقات کرنے میں کامیاب ہوا۔ اور وہ مضامین کو اس حال میں واپس لایا کہ کاتب صاحب نے ابھی ایک سطر بھی نہیں لکھی تھی ۔ اب اس واقعہ پر غور کیجیے ۔ میرے نزدیک یہ بات صحیح نہیں ہے کہ میز پر کھانا کھانا سنت کے خلاف ہے ۔ تاہم بالفرض اگر میز پر کھا نا کھانا سنت کے خلاف ہو تب بھی مذکورہ کاتب صاحب نے ایک سنت پر عمل کیا اور دو اہم تر سنت کو چھوڑ دیا۔ اپنے خیال کے مطابق انھوں نے فرش پر کھانا کھاکر ایک سنت ادا کی ۔ مگر اس کے ساتھ دو اہم تر سنتیں سنت وعدہ اور سنت صبر کی تعمیل وہ نہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader