Urdu book · دین کامل

سنت رسول

Urdu book, p. 105

By Maulana Wahiduddin Khan

کر سکے ۔ اپنے وعدہ کے مطابق انھیں دو ہفتہ میں مضامین کی کتابت کر کے ہمیں پہونچانا چاہیے تھا ۔ اور بالفرض اگر کوئی عذر لاحق ہو جائے تو ان کے لیے ضروری تھا کہ ہمیں اطلاع دیں ۔ مگر انھوں نے نہ اپنا وعدہ پورا کیا نہ اس کے بارے میں کوئی اطلاع دی ۔ دوسری بات یہ کہ اپنے رشتہ داروں سے اگر ان کا کوئی جھگڑا تھا تو وہ صبر اور اعراض کے طریقہ کو اختیار کر کے اس مسئلہ کو حل کر سکتے تھے ۔ مگر وہ صبر اور اعراض کا طریقہ اختیار نہ کر سکے نتیجہ یہ ہوا کہ انھیں زخمی ہو کر کئی مہینہ اسپتال میں رہنا پڑا ۔ مذکورہ کاتب صاحب ایک عربی درسگاہ سے فارغ ہیں ۔ انھوں نے سنت اور حدیث کا علم حاصل کیا تھا ۔ مگر سنت کے نام سے ان کا ذہن جن چیزوں سے مانوس تھا وہ چند ضمنی اور فرعی چیزیں تھیں مثلاً ایک مشت داڑھی رکھنا ۔ چٹائی پر کھانا کھانا ۔ دائیں ہاتھ سے پانی پینا وغیرہ وغیرہ ۔ یہ بات ان کی شعوری دریافت سے باہر ھوتی کہ وعدہ پورا کرنا بھی سنت ہے ۔ صبر کرنا بھی سنت ہے اور جھگڑوں میں اعراض کا طریقہ اختیار کرنا بھی سنت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے چٹائی پر کھانا کھانے کی سنت پر شدت سے عمل کیا ۔ مگر وعدہ اور صبر و اعراض کی سنت پر عمل کرنے کی ضرورت انھیں محسوس نہیں ہوئی ۔ یہی پوری ملت کا حال ہے ۔ آج بے شمار لوگ ہیں جو سنت کی اہمیت کا اقرار کرتے ہیں ۔ جو سنت کے اتباع کا زبردست اہتمام کرتے ہیں مگر سنت کے لفظ سے وہ جن چیزوں کو جانتے ہیں وہ بس چند آداب ہیں ۔ ان جزئی آداب کے معاملہ میں وہ اتباع سنت کا زبردست اہتمام کرتے ہیں مگر ان کے علاوہ جو بڑی بڑی سنتیں ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار تاکید فرمائی ہے ان کی اتباع کا متبعین سنت کے یہاں کوئی اہتمام نہیں پایا جاتا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان چیزوں کو وہ سنت کے نام سے جانتے ہی نہیں ۔ آپ کسی مجلس میں معروف سنتوں کا ذکر کریں تو کسی شخص کو کوئی اجنبیت محسوس نہ ہوگی ۔ لیکن اگر آپ اس قسم کے الفاظ بولیں مثلاً ۔ سنت تفکر ، سنت اعتبار ، سنت صبر ، سنت اعراض ، سنت نصح ، سنت دعوت وغیرہ ، تو لوگ آپ کو عجیب نگاہوں سے دیکھیں گے ۔ ان کو ایسا معلوم ہوگا جیسے آپ کوئی نیا دین پیش کر رہے ہیں ۔ ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بدأت الاسلام غريبا و سيعود كما بدأ فطوبى للغرباء اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا۔ پھر دوبارہ وہ اجنبی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page